پنجاب پولیس محکمہ نے ٹریفک پولیس کے روایتی سرمئی لباس کو سفید شرٹ اور نیوی بلیو پتلون سے تبدیل کرنے کا منصوبہ جاری کر دیا ہے، جس کے لیے صوبائی انسپکٹر جنرل عبد الکریم نے قریباً 12,000 نئی وردیوں کی خریداری کی منظوری دے دی ہے۔ یہ تبدیلی موجودہ مالی سال کے دوران پورے پنجاب میں نافذ کی جائے گی اور سپلائر پری کوالیفکیشن کا عمل اسی ہفتے شروع ہونے کی توقع ہے۔
پنجاب بھر میں ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کے لیے وردی کا نیا ڈیزائن اپنایا جا رہا ہے، جس میں سرمئی لباس کی جگہ سفید شرٹ اور نیوی بلیو پتلون شامل ہیں۔
پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ تبدیلی ایک صوبائی سطح کے متبادل پروگرام کا حصہ ہے جسے موجودہ مالی سال میں مکمل کیا جائے گا۔
لاہور ٹریفک پولیس نے گذشتہ سال پہلے مرحلے کے طور پر پہلے ہی اس نئے ڈریس کوڈ کو اپنانا شروع کر دیا تھا۔ اس منصوبے کا آغاز لاہور سے کیا گیا تھا اور اب اسے دوسرے اضلاع کے ٹریفک یونٹس تک بڑھایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کے انسپکٹر جنرل عبد الکریم نے اب ٹریفک پولیس اہلکاروں کے لیے تقریباً 12,000 نئی وردیوں کی خریداری کی منظوری دے دی ہے۔
حکام نے بتایا کہ صوبے بھر میں نئے یونیفارم اسکیم کو لاگو کرنے کی تیاری کے دوران سپلائرز کی پری کوالیفکیشن کا عمل اسی ہفتے شروع کیا جائے گا تاکہ مناسب فراہم کنندگان کا تعین کیا جا سکے۔
آفیشلز نے واضح کیا کہ نئے ڈریس کوڈ کا مقصد صوبے بھر میں ٹریفک اہلکاروں کے لیے ایک یکساں اور معیاری شکل وضع کرنا ہے، جب کہ پرانی سرمئی وردی کو بتدریج ختم کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق، اس اقدام کا مقصد عوامی سطح پر ٹریفک پولیس کی واضح شناخت اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل کو فروغ دینا بھی ہے۔
محکمہ کی جانب سے خریداری اور تقسیم کے شیڈول، لاگت یا مالی وسائل کے بارے میں مزید تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔ حکام آئندہ ہفتوں میں سپلائر پری کوالیفکیشن کے عمل اور بعد ازاں ٹینڈرنگ سے متعلق اضافی معلومات فراہم کریں گے۔
یہ تبدیلی لاہور میں شروع ہونے والے پہلے مرحلے کے بعد ایک وسیع تر منتقلی کا حصہ ہے جس میں دیگر اضلاع کے ٹریفک یونٹس بھی شامل ہوں گے۔
مزید معلومات اور متعلقہ اپڈیٹس محکمہ پولیس کی باضابطہ اعلانات کے بعد دستیاب ہوں گی۔




