بنگلہ دیش نے چین کے 4.5 جنریشن چنگدو جے-10 سی ای لڑاکا طیاروں کی خریداری کی تصدیق کی ہے کیونکہ بنگالی فوج کے ذرائع کے مطابق اِن طیاروں کی خریداری کی وجہ مئی میں پاکستان۔بھارت تنازع میں رافیل طیاروں کے خلاف اُن کی اعلیٰ کارکردگی بتائی گئی۔
بنگلہ دیشی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مشیر زاہد الرحمان کے بقول ایک مسودّہ تجویز (ڈرافٹ پروپوزل) خریداری کے لیے ملک کی وزارتِ خزانہ اور آرمڈ فورسز ڈویژن کو منظوری کے لیے بھیجی گئی ہے جس میں چین کے جے-10 سی ای لڑاکا طیاروں کے علاوہ چینی اٹیک ہیلی کاپٹر، وی آئی پی ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹرز اور ڈرون بھی شامل ہیں۔
بنگلہ دیشی پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) نے بتایا کہ موجودہ مالی سال میں درکار بجٹ مختص ہونے کی صورت میں یہ خریداری فوراً عمل میں لائی جائے گی بصورتِ دیگر آئندہ بجٹ سائیکل میں منتقل ہو جائے گی۔
جے-10 سی ایک سنگل انجن کثیرالمقاصد لڑاکا طیارہ ہے جس کی زیادہ سے زیادہ رفتار میخ 1.8 بتائی جاتی ہے اور اسے ہوائی بمباری اور فضائی ہتھیاروں دونوں کے لیے ساز و بند کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اِس طیارے نے گزشتہ سال ایک شبِ جنگ میں بھارتی فضائیہ کے چھ طیارے مار گِرائے تھے۔
یہ بات ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ (ایس سی ایم پی) نے رپورٹ کی جس میں زاہد الرحمان کے حوالے سے کہا گیا کہ بنگلہ دیش نے پچھلے سال ہونے والی جنگ پر توجہ دی، جب پاکستان نے جے-10 طیاروں اور پی ایل-15 طویل فاصلے تک مار کرنے والی فضائی میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی رافال طیاروں کو ہدف بنایا۔
اس سے قبل جنوری میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے فضائی سربراہوں نے مقامی طور پر تیار کیے جانے والے جے ایف-17 تھنڈر طیارے کی ممکنہ خریداری پر تفصیلی بات چیت کی تھی جسے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بھی رپورٹ کیا تھا۔ بنگلہ دیش کے ایئر چیف مارشل حسن محمود خان نے اسلام آباد میں پاکستان ائیر فورس کے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی، جہاں عملی تعاون، تربیت اور فضائی صلاحیت سازی پر زور دیا گیا۔
رپورٹ میں علاقائی پس منظر بھی شامل ہے: پاکستان اور بھارت کے مابین موجودہ تنازع اپریل کے اواخر سے مئی کے اوائل تک چلا، جس میں دونوں جانب سے میزائل اور فضائی کارروائیاں شامل تھیں اور بالآخر 10 مئی کو جنگ بندی ریکارڈ کی گئی۔




