بنگلہ دیشی وزیرِاعظم طارق رحمان نے نئی دہلی میں برِکس اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا

بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم طارق رحمان نے نئی دہلی میں بِرکس سربراہی اجلاس میں شرکت سے انکار کیا—وزارتِ خارجہ نے کہا کہ مشاورت کے باوجود مطلوبہ پیش رفت نہ ہوئی اور ماحول سازگار نہیں رہا۔

بنگلہ دیشی وزیرِاعظم طارق رحمان نے نئی دہلی میں ہونے والے برِکس سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مشاورت کے باوجود مطلوبہ پیشرفت نہ ہونے کی وجہ سے بنگالی وزیرِاعظم کا دورہ ممکن نہیں رہا۔

بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمان نے بھارت میں ہونے والی برِکس سربراہی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے رابطوں کی بحالی پر سوالات اُٹھ گئے ہیں۔ بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم کے ممکنہ دورے کے حوالے سے کئی ہفتوں تک مشاورت جاری رہی مگر مطلوبہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ وزارت نے یہ بھی بتایا کہ پانچ اگست کو دہلی کے ’’فارن کورسپانڈنٹس کلب‘‘ میں سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی پریس کانفرنس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کا ماحول مزید پیچیدہ ہو گیا۔

نئی دہلی کی طرف سے رواں برس فروری میں برسرِ اقتدار آنے کے فوراً بعد طارق رحمان کو دورے کی دعوت دی گئی تھی، مگر اُنہوں نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے ملائیشیاء کو ترجیح دی اور بعد ازاں چین کا دورہ بھی کیا۔ اب برِکس سربراہی اجلاس کے لیے دوبارہ مدعو کیے جانے پر بھی وہ انڈیا کا دورہ کرنے سے گریزاں رہے۔ وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ کسی بھی اعلیٰ سطح کے دورے کے لیے پہلے سازگار ماحول ضروری ہوتا ہے۔

مغربی اور جنوبی ایشیاء کی سیاست پر نظر رکھنے والے صحافی سوربھ کمار شاہی کے مطابق نئی دہلی اِس لیے مصروفِ عمل نظر آ رہا ہے کیونکہ بنگلہ دیش میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد ان کے ساتھ براہِ راست رابطے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اُن کے الفاظ میں یہ ممکن نہیں کہ کسی ملک میں ایسی حکومت آ جائے جس سے آپ متفق نہ ہوں اور پھر آپ اُس سے رابطہ ہی ختم کر دیں۔ ایک معروف کہاوت ہے کہ دوست بدلے جا سکتے ہیں، پڑوسی نہیں۔ اِسی لیے دونوں جانب روابط بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

صحافی نے نشاندہی کی کہ انڈیا بنگلہ دیش کو سکیورٹی، تجارت اور علاقائی سیاست کے حوالے سے اہم پڑوسی سمجھتا ہے اور اِسی لیے نئی دہلی موجودہ قیادت کے ساتھ بامعنی سیاسی رابطہ قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیشی عوام میں انڈیا کے بارے میں منفی جذبات کی بڑھتی ہوئی تعداد حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

پیُو ریسرچ سینٹر کے حالیہ سروے کے مطابق فروری تا مئی 2026ء کے دوران بنگلہ دیش میں 42 فیصد لوگوں نے انڈیا کے بارے میں مثبت رائے ظاہر کی جبکہ 51 فیصد کا رویہ منفی رہا۔ 2024ء کے سروے میں مثبت رائے 57 فیصد تھی۔ سوربھ کمار شاہی نے کہا کہ عوامی جذبات اور ملک کی داخلی سیاسی صورتِ حال کو سامنے رکھ کر طارق رحمان کے لیے دورہ ملتوی کرنا ایک سیاسی حقیقت بھی ہو سکتی ہے۔

یہ فیصلہ دونوں ملکوں کے مستقبل کے تعلقات اور علاقائی سفارتکاری میں نئی بحث کا باعث بن سکتا ہے جبکہ نئی دہلی کی کوششوں اور بنگلہ دیشی سیاسی معروضات کے درمیان توازن قائم رکھنے کی ضرورت واضح ہو گئی ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1531