وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں مبینہ غیرقانونی ویزا سہولت کاری کا نیٹ ورک توڑتے ہوئے ایک چینی شہری اور امیگریشن اینڈ پاسپورٹس ڈیپارٹمنٹ (آئی پی ڈی) اور اسلام آباد پولیس کی اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (ایس پی یو) کے اہلکاروں کو گرفتار کر لیا، تفتیش کے دوران دو کروڑ روپے اور دیگر دستاویزات برآمد ہوئیں۔
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں مبینہ غیرقانونی ویزا سہولت کاری کے ایک جال کا پردہ فاش ہوا ہے جس میں ایک چینی شہری، آئی پی ڈی کے افسر اور اسلام آباد پولیس کے ایس پی یو اہلکار شامل تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے تقریباً دو کروڑ روپے نقد اور متعدد دستاویزات برآمد کر کے تینوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی انسدادِ انسانی اسمگلنگ سیل کی ایک دیگر تفتیش کے دوران سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ جب وفاقی دارالحکومت میں گرفتار غیر ملکی شہریوں سے پوچھ گچھ کی گئی تو کچھ افراد نے بتایا کہ ایک منظم نیٹ ورک غیر قانونی ویزہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکیوں کو امیگریشن کلیئرنس اور نقل و حرکت کی سہولت فراہم کرتا تھا۔
چینی شہری نے 15 اگست کو تفتیش کے دوران مزید انکشافات کیے جن سے پتہ چلا کہ دیگر مقامی سرکاری افسروں کے ساتھ مل کر وہ ہر مسافر کے عوض 80 ہزار روپے وصول کرتے تھے۔ ایک ملزم کے موبائل فون سے بازیاب واٹس ایپ چیٹس اور ادائیگی کی رسیدیں بھی اِن دعووں کی تائید کرتی ہیں۔
ابتدائی تفتیش میں ایک ملزم نے اقرار کیا کہ اُس نے سپارو پلازہ گلبرگ گرینز سے گرفتار کیے گئے غیر ملکیوں کی رہائی کے لیے چینی شہری سے رشوت لی تھی اور پہلے بھی امیگریشن کلیئرنس کے عوض رقم وصول کرتا رہا ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی شامل ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے بعض افسران کو مبینہ طور پر ایسے غیر ملکیوں کے تحفظ کے لیے ماہانہ رقم دی جاتی تھی۔ ایف آئی اے نے مزید شواہد جمع کر کے تحقیقات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔




