بلاول کی منگنی، زرداری خاندان ویانا میں، میڈیا اور سوشل میڈیا پر بحث جاری، خبر غلط ہے، مرتضیٰ وہاب

کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے بلاول بھٹو زرداری کی منگنی اور شادی کے بارے میں گردش کرنے والی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دے دیا؛ نہ بلاول نے اور نہ اہلِ خانہ نے کوئی تصدیق کی۔

کراچی کے میئر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما مرتضیٰ وہاب نے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی منگنی اور شادی سے متعلق اطلاعات کو ’’غلط اور بے بنیاد‘‘ قرار دیا تاہم بلاول یا اُن کے اہلِ خانہ کی طرف سے اِس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا جبکہ جیو نیوز سمیت بعض چینلوں نے ذرائع کے حوالے سے اُن کی منگنی کی خبر چلا دی ہے

مرتضیٰ وہاب نے اُسوقت بیان دیا جب میڈیا ور سوشل میڈیا پر بلاول بھٹو زرداری کی منگنی کا تذکرہ شروع ہوا کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اپنے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کی شادی کسی یورپی خاندان میں کرنے جا رہے ہیں اور وہ منگنی کی تاریخ طے کرنے کے لیے لیکٹنسٹائن میں ہیں۔ کئی آن لائن پوسٹوں میں یہ بھی کہا گیا کہ ممکنہ دلہن سابق آسٹریائی شہزادی ہیں جبکہ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ شادی کی تیاریاں جاری ہیں۔ روزنامہ اوصاف نے 38 سالہ بلاول کے لیے شادی کی تیاریاں شروع ہونے کے مبینہ دعووں کا حوالہ دیتے ہوئے نامعلوم ذرائع کا ذکر کیا۔

واضح رہے کہ صدارتی دفتر نے 27 اگست کو ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ صدر زرداری ’’نجی دورے‘‘ پر بیرونِ ملک روانہ ہو چکے ہیں، تاہم اس میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔ اب تک نہ تو بلاول بھٹو زرداری نے اور نہ ہی اُن کے اہلِ خانہ نے اِن افواہوں کی تصدیق کی ہے۔ مرتضیٰ وہاب کا بیان اِسی پس منظر میں آیا ہے جس میں اُنہوں نے اِس بحث کو قطعی طور پر رد کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری سطح پر اِس بارے میں کوئی خبر یا اعلان سامنے نہیں آیا۔

جیو نیوز کے نمائندے مرتضیٰ علی شاہ نے البتہ پیپلز پارٹی کے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ بلاول کی ممکنہ دلہن کو آسٹریا کے سابق شاہی خاندان ’’ہاؤس آف ہیبسبرگ-لورین‘‘ سے جوڑا جا رہا ہے اور کچھ رپورٹس میں انہیں آسٹریا کے آخری شہنشاہ کارل اول کے خاندان سے بتایا گیا ہے۔ اُن کے ذرائع کے مطابق شادی ممکنہ طور پر رواں سال کے آخر میں ویانا میں ہو سکتی ہے، بلاول اور ممکنہ دلہن ایک دوسرے کو کئی سالوں سے جانتے ہیں، اُن کے کئی مشترکہ دوست بھی ہیں۔ پارٹی ذرائع توقع کر رہے ہیں کہ صدر زرداری برطانیہ میں تقریباً دو ہفتے گزاریں گے جو کئی سالوں میں اُن کا برطانیہ کا پہلا طویل دورہ ہوگا۔ ان کا برطانیہ کا آخری دورہ تقریباً پانچ سال قبل ہوا تھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل بلاول بھٹو زرداری اکثر نجی اور سیاسی مصروفیات کے سلسلے میں برطانیہ کا سفر کرتے رہتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ صدر زرداری اور بلاول آسٹریا سے برطانیہ روانہ ہوں گے اور لندن سمیت ملک کے دیگر حصوں میں تقریباً 10 دن قیام کریں گے جبکہ دلہن کے خاندان کے افراد کی بھی برطانیہ میں قیام کے دوران بھٹو زرداری خاندان کے ہمراہ ہونے کی توقع ہے۔وہ اور بلاول شادی کے حوالے سے بات چیت ہی کے لیے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں موجود ہیں۔ اِس پیشرفت سے آگاہ ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جیو نیوز کو بتایا کہ صدر زرداری اور بلاول نے تین روز قبل آسٹریا پہنچنے کے بعد سے اب تک ممکنہ دلہن کے اہل خانہ سے تین بار ملاقات کر چکے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ بلاول کی بہنیں بھی فیملی کے ہمراہ لندن میں ہیں جبکہ بلاول کی خالہ اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی صنم بھٹو پہلے ہی لندن میں موجود ہیں۔ اُنہوں نے تقریباً دو ہفتے قبل پی پی پی برطانیہ کے صدر محسن باری کے بیٹے کی شادی میں شرکت کی تھی۔ ذرائع نے مزید کہا کہ پی پی پی کے سینیئر رہنماؤں اور بھٹو زرداری خاندان کے قریبی افراد تک کو تقریباً دو دن پہلے تک شادی کی ان مبینہ خبروں کا علم نہیں تھا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1514