بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (بائیس لاہور) کی گزیٹ کے مطابق 2026 کے 9ویں جماعت کے نتائج میں نجی اداروں کے باقاعدہ طلبہ نے 70.92% پاس ریٹ کے ساتھ سرکاری اداروں کے 39.98% پاس ریٹ سے 30.94 فیصدی پوائنٹس کی واضح برتری دکھائی؛ نجی اسکولوں نے کم امیدوار ہونے کے باوجود سرکاری اسکولوں سے 15,748 زیادہ کامیاب طلبہ بھی فراہم کیے۔
بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (بائیس لاہور) کی جاری کردہ گزیٹ کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ نجی اداروں کے باقاعدہ امیدواروں نے 9ویں جماعت کی امتحانی فہرست میں مجموعی طور پر بہتر کارکردگی دکھائی۔ نجی اداروں کے 79,185 باقاعدہ امیدواروں میں سے 56,157 کامیاب ہوئے، جب کہ سرکاری اداروں کے 101,079 امیدواروں میں سے 40,409 ہی پاس ہوئے۔
اس طرح نجی اداروں کا پاس فیصد 70.92 رہا جبکہ سرکاری اداروں کا پاس فیصد 39.98 رہا، یعنی نجی اسکول سرکاری اسکولوں سے 30.94 فیصدی پوائنٹس آگے رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نجی ادارے کل امیدواروں میں 21,894 کم تھے مگر کامیاب طلبہ کی تعداد میں 15,748 زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
صنفی تقسیم میں بھی نجی اداروں کا غلبہ نمایاں رہا۔ نجی اسکولوں کی طالبات نے سب سے بہترین کارکردگی دکھائی: 42,049 میں سے 32,765 پاس ہوئیں، یعنی 77.92%؛ نجی اداروں کے لڑکوں کا پاس فیصد 62.99% رہا (37,136 میں سے 23,392 پاس)۔ سرکاری اداروں میں طالبات کا پاس فیصد 48.13% اور طلبہ کا 28.86% رہا۔
اس کے نتیجے میں نجی اسکولوں کی لڑکیاں سرکاری اسکولوں کی لڑکیوں سے 29.79 پوائنٹس آگے رہیں، جبکہ نجی اسکولوں کے لڑکے سرکاری اسکولوں کے لڑکوں سے 34.13 پوائنٹس بہتر کارکردگی دکھاتے نظر آئے۔ دونوں سیکشنز میں لڑکیاں لڑکوں سے برتری رکھتی ہیں؛ سرکاری اداروں میں صنفی فرق 19.27 پوائنٹس اور نجی اداروں میں 14.93 پوائنٹس رہا۔
گزیٹ میں درج تین اہم گروپس—سائنس، آرٹس اور ٹیکنیکل—میں بھی نجی اداروں نے ہر ایک میں سرکاری اداروں کو پیچھے چھوڑا۔ بائیس لاہور کے نتائج لاہور، قصور، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب کے باقاعدہ اور ذاتی امیدواران دونوں کا احاطہ کرتے ہیں۔
گزیٹ کے مطابق کل 280,676 امیدواران 9ویں جماعت کے امتحان میں شریک ہوئے جن میں سے 130,543 کامیاب قرار پائے اور مجموعی پاس فیصد 46.51% رہا۔ باقاعدہ امیدواران کا مجموعی پاس فیصد 53.57% رہا جبکہ وہ امیدوار جو ذاتی طور پر داخلہ فارم جمع کراتے ہیں ان کا پاس فیصد 33.84% درج ہے۔
یہ تجزیہ بائیس لاہور کی گزیٹ میں دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا گیا ہے؛ بورڈ کسی بھی قسم کی درستی یا تبدیلی کر سکتا ہے اور کسی اختلاف کی صورت میں باضابطہ ریکارڈ کو فوقیت حاصل ہوگی۔




