گوئیانگ/ گوئیژو (مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے دیہی اور چھوٹے شہروں کے مرد ’’فلیش میرج‘‘ کے ذریعے فراڈ کا شکار ہو رہے ہیں، اِن میں 37 سالہ وانگ ژوانگ بھی شامل ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ رشتہ کروانے والی ایجنسیوں نے اُنہیں ایک جھوٹا شریکِ حیات دے کر مالی اور جذباتی نقصان پہنچایا، حکام نے اِس ماہ رشتہ کرانے کی صنعت پر ملک گیر کریک ڈاؤن شروع کیا۔
بی بی سی کے مطابق وانگ ژوانگ کہتے ہیں کہ وہ شادی کی اُمید تقریباً چھوڑ چکے تھے جب اُنہیں رشتہ کروانے والی ایجنسیوں کے اشتہارات دکھائی دیے جو وعدہ کرتے تھے کہ آپ کو ایسے تعلق پر برسوں ضائع نہیں کرنے پڑیں گے۔ وانگ کے بقول ایجنسی نے اُنہیں بتایا کہ گوئیژو کی لڑکیاں کفایت شعار ہوتی ہیں اور گھر چلانے میں ماہر ہوتی ہیں۔ وانگ گوئینگ پہنچے اور اُن کا رشتہ ایک خاتون سے طے ہوا جو بظاہر اُن کی توقعات پر پورا اُترتی تھی۔ شادی سے قبل صرف چند مرتبہ ملاقات ہوئی تاہم جلد ہی رشتہ ٹوٹ گیا۔ وانگ نے بتایا کہ اُن کے پورے خاندان کی زندگی برباد ہو گئی۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کی بیوی سابق کیریوکے ہوسٹس تھیں، تین بار شادی کر چکی تھیں، تین بچے تھے، ایک سنگین جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری میں مبتلا تھیں اور بھاری قرض تلے دبی تھیں۔ وانگ کہتے ہیں کہ ممکنہ رشتوں سے تعارف کروائے جانے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی اُنہوں نے ایجنسی کو رقم ادا کر دی تھی۔ وہ طلاق کے لیے قانونی جدوجہد کر رہے ہیں اور اپنی جمع پونجی کا کچھ حصہ واپس لینے کے خواہش مند ہیں۔ اب اُن کے والدین اُنہیں قصوروار ٹھہراتے ہیں، وہ بےخوابی اور اضطراب کا شکار ہو چکے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ماہرین اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ انفرادی واقعات چین کے وسیع آبادیاتی بحران کے عکاس ہیں جو طویل عرصے سے جاری ہے۔ کمیونسٹ حکومت کی ’’ون چائلڈ پالیسی‘‘ اور بیٹوں کو ترجیح دینے کے رجحان کے نتیجے میں خواتین کی نسبت مردوں کی تعداد میں واضح عدم توازن پیدا کیا، آج چین میں خواتین کے مقابلے میں مردوں کی تعداد تقریباً تین کروڑ زیادہ ہے۔
جنوری 2016ء میں پالیسی میں تبدیلی کے باوجود یہ فرق برقرار ہے۔ اس صورتِحال میں چھوٹے شہروں کے مردوں کے لیے شریکِ حیات کی تلاش مشکل ہوگئی ہے، جہاں دولہے کے خاندان سے دُلہن کے بدلے رقم کی درخواست ایک بھاری مالی بوجھ بن چکی ہے۔ اِسی خلاء کو پُر کرنے کے لیے گوئیانگ میں رشتہ کروانے والی ایجنسیوں کی مانگ بڑھی اور بعض جگہ ’’فلیش میرج‘‘ مقبول ہوئی جو کم وقت میں حل کا وعدہ کرتے ہیں۔ سرکاری کارروائیاں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ جنوری 2024ء سے مارچ 2025ء کے دوران پراسیکیوٹرز نے رشتہ کروانے کی صنعت سے متعلق جرائم میں ایک ہزار 546 افراد کے خلاف مقدمات نبٹائے۔ اِس ماہ پانچ سرکاری اداروں نے مشترکہ طور پر ملک گیر کریک ڈاؤن شروع کیا جبکہ ایک معاملے میں مبینہ طور پر ایک ایجنسی نے کیریوکے بار میں کام کرنے والی خواتین کو استعمال کرتے ہوئے 128 افراد سے 25 لاکھ یوآن (تقریباً تین لاکھ 71 ہزار ڈالر) سے زیادہ رقم ہتھیائی۔ بیجنگ جن شی لا فرم کے نانجنگ دفتر سے وابستہ فان بِنگھے نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت فلیش میرج فراڈ کی روک تھام کے لیے اس صنعت سے متعلق مخصوص ضوابط متعارف کروا سکتی ہے۔




