چین 2027، 2028 میں امریکا سے سالانہ ایک کروڑ ٹن کوئلہ خریدے گا، ٹرمپ-ژی تجارتی مفاہمت کا اہم نتیجہ
چین نے 2027 اور 2028 میں ہر سال کم از کم 10 ملین میٹرک ٹن امریکی کوئلہ درآمد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر ژی جن پنگ کے حالیہ واشنگٹن سربراہی مذاکرات کے اہم نتائج میں شامل ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اسے امریکی کوئلہ صنعت کو دوبارہ تقویت دینے کی کوششوں سے جوڑا ہے۔
تازہ چینی سرکاری بیان کے مطابق یہ مقدار چین کی سالانہ کوئلہ درآمدات کا تقریباً 2 فیصد بنتی ہے۔ بیجنگ نے امریکی کوئلے کو اپنی مقامی مارکیٹ کے لیے ایک اضافی ذریعہ قرار دیا ہے، جبکہ اسے امریکی کوئلہ صنعت کے لیے آمدنی اور روزگار کا ذریعہ بھی بتایا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ موجودہ معاہدے میں امریکی (ایل این جی) یا خام تیل کی خریداری شامل نہیں۔
یہ پیش رفت امریکا اور چین کے درمیان کئی سال سے جاری تجارتی جنگ کے تناظر میں اہم ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے چین پر بھاری ٹیرف عائد کیے جانے اور بیجنگ کے جوابی اقدامات کے بعد دونوں ممالک نے 2025-26 میں مذاکرات کے ذریعے تجارتی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ تاہم سیمی کنڈکٹرز، نایاب معدنیات، ٹیکنالوجی، تائیوان اور قومی سلامتی جیسے بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
تازہ سربراہی اجلاس میں کوئلے کے علاوہ تقریباً 30 ارب ڈالر کی باہمی تجارت پر ٹیرف میں کمی، نایاب معدنیات کی سپلائی، زرعی مصنوعات، فینٹانائل کے پیشگی کیمیکلز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق رابطہ کاری پر بھی پیش رفت ہوئی۔ دونوں ممالک نے موجودہ تجارتی جنگ بندی کو جنوری تک بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
تاریخی طور پر چین دنیا کا سب سے بڑا کوئلہ استعمال کرنے والا ملک ہے، جبکہ امریکا طویل عرصے سے چین کو کوئلہ برآمد کرنے والا بڑا مگر نسبتاً محدود سپلائر رہا ہے۔ نئے معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ توانائی تجارت اب وسیع تر امریکا-چین تجارتی مذاکرات کا حصہ بن رہی ہے۔
تاہم 20 ملین ٹن کی مجموعی دو سالہ مقدار چین کی مجموعی توانائی ضروریات کے مقابلے میں محدود ہے۔ اس لیے اسے دونوں ملکوں کے درمیان مکمل تجارتی حل کے بجائے وسیع تر معاشی مفاہمت کی ایک عملی علامت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔



