سابق جنوبی افریقی فاسٹ باؤلر ڈیل اسٹین نے دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دن لارڈز میں پاکستان کے فاسٹ باؤلر محمد علی کی گیندبازی کو آسٹریلیا کے آل راؤنڈر مارکس اسٹوئنس کے انداز سے ملتا جلتا قرار دیا، یہ تبصرہ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر میچ میں علی کے شاندار اسپیل کے فوراً بعد کیا۔
ڈیل اسٹین، جنہوں نے جنوبی افریقہ کی نمائندگی میں 93 ٹیسٹ کھیلے اور 439 وکٹیں حاصل کیں، نے اپنے نوٹس سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر شیئر کیے۔ انہوں نے لکھا کہ محمد علی کے دوڑنے کا انداز، گیند چھوڑنے سے پہلے کا جمع ہونا اور رفتار مارکس اسٹوئنس کی یاد دلاتے ہیں اور سوال کیا کہ کیا علی نے کسی حد تک اپنا ایکشن اسٹوئنس سے ماخذ بنایا ہے۔
اس تبصرے کے موقع پر محمد علی نے دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دن متاثر کن بولنگ دکھائی۔ رائٹ آرم پسر نے 17 اوورز میں 3 وکٹیں حاصل کیں، جب کہ محمد عباس پاکستان کے نمایاں بولر رہے جنہوں نے 15 اوورز میں 4 وکٹیں حاصل کیں۔
بارش اور روشنی کی خرابی کی وجہ سے متاثرہ دن میں انگلینڈ نے 50 اوورز میں 248-9 رنز بنائے۔ محمد علی نے ہیری بروک، جیمی اسمتھ اور اولی رابرنسن کو پویلین بھیجا، جبکہ محمد عباس نے بین ڈکٹ، ایمیلیو گی اور جو روٹ سمیت تیزی سے کھیلنے والے جوفرا آرچر کی وکٹ بھی حاصل کی۔ خرم شہزاد نے جارڈن کاکس کی وکٹ لی۔
اس دن اسمتھ نے انگلینڈ کے لیے سب سے زیادہ 61 رنز بنائے (80 بالز)، جبکہ کاکس نے 105 گیندوں پر 55 رنز اسکور کیے۔ انگلش اننگز دوسرے دن دوبارہ شروع ہوگی جہاں گس ایٹکنسن ناقابلِ شکست 34 رنز پر موجود ہیں اور جاش ٹنگ ایک رن پر کھیل رہے ہیں۔
اسپورٹس حلقوں میں اسٹین کے تبصرے نے بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا نوجوان باؤلرز اپنے انداز کسی دوسرے کھلاڑی سے متاثر ہو کر ڈھالتے ہیں، یا یہ محض اتفاق ہے۔




