ب
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق بیلجیم کے مشرقی فلینڈرز کے شہر ڈیندرمونڈے میں گھر کی مرمت کے دوران مزدوروں نے تہہ خانے کی دیواروں میں چھپا قریباً 90 لاکھ یورو (دو ارب 89 کروڑ پاکستانی روپے) مالیت کے سونے کے سکے اور اینٹیں نکالی ہیں؛ مقامی پولیس نے سونا محفوظ مقام پر منتقل کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ کس کی ملکیت ہے۔
مرمت کے دوران ملنے والا خزانہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب مزدور نئے سیوریج پائپ بچھانے کے لیے ڈرلنگ کر رہے تھے اور دیواروں کے اندر سے سونے کی اینٹیں اور سکے برآمد ہوئے۔
مقامی میڈیا اور پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مزید سونا تلاش کرنے کے لیے زیرِ تعمیر مقام کا رخ نہ کریں۔ پولیس نے اپنے فیس بک پروفائل کی تصویر بھی سونے کے سکے کی تصویر سے تبدیل کر دی ہے۔
خزانہ تلاش کرنے والے مزدوروں میں 18 سالہ طالب علم کوبے بھی شامل تھے۔ کوبے نے قومی سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ شروع میں اُنہیں یہ یورو کے سکے لگے، لیکن پھر اُنہیں وہاں سونے کی ایک اینٹ نظر آئی جس کے بعد اندازہ ہوا کہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ بہت بڑا خزانہ ہے۔اُنہوں نے کہا کہ سب نے فوراً پولیس کو اطلاع دی کیونکہ اتنا سب کُچھ اپنے پاس رکھنا ممکن نہیں تھا۔
سائٹ مینیجر ماریو نے بھی بتایا کہ وہاں بہت زیادہ سکے اور سونے کی اینٹیں تھین جنہیں اپنے پاس رکھنا تقریباً ناممکن تھا جبکہ یہ چوری بھی ہوتی۔
یہ مکان فلاحی ادارہ ‘سی اے ڈبلیو اوست فلاندرن’ کے کنٹرول میں ہے جو ڈیندرمونڈے میں ضرورت مند لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر گیرٹ ہلائرٹ نے کہا کہ اُنہیں خزانہ ملنے کی خبر پر حیرت ہوئی اور اُمید ظاہر کی کہ اگر فلاحی ادارے کو یہ سونا ملے تو اُسے ضرورت مندوں کی مدد اور دیگر فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ شہر کی آبادی تقریباً 47 ہزار ہے۔
بیلجیم کے قانون کے تحت اس طرح کے چھپے ہوئے خزانے کا اصل مالک اُسے واپس لینے کے لیے پانچ سال کا وقت رکھتا ہے۔ اگر پانچ سال کے دوران کوئی مالک سامنے نہ آیا تو قانون کے مطابق یہ خزانہ عام طور پر تلاش کرنے والے اور جائیداد کے مالک کے درمیان تقسیم کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ یہ ثابت نہ ہو کہ یہ اشیاء کسی مجرمانہ سرگرمی سے منسلک ہیں۔
مقامی پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ ابھی تک اصل مالک کا تعین نہیں ہو سکا۔ اب بلڈرز اور فلاحی ادارے دونوں کو 1823 دن تک انتظار کرنا ہوگا کہ آیا کوئی مالک دعویٰ پیش کرتا ہے یا نہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اُمید کرتی ہے کہ خزانہ صحیح جگہ پہنچے گا اور لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے گا۔




