ڈیزل قیمتوں میں اضافہ مال برداری ٹرانسپورٹ سیکٹر کو ٹھپ کر گیا

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری نے کہا ہے کہ ڈیزل قیمتوں میں مسلسل اضافہ مال برداری ٹرانسپورٹ کو غیر منافع بخش بنا کر کئی گاڑیاں پارک کروا رہا ہے۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری نے کہا ہے کہ ڈیزل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مال برداری ٹرانسپورٹ سیکٹر کو شدید متاثر کیا ہے، کئی ٹرانسپورٹر دوبارہ اپنے وہیکل پارک کرنے پر مجبور ہیں اور آپریشن غیر منافع بخش ہو گئے ہیں۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری نے اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیزل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں مال برداری کے کاروبار کی ریڑھ کمزور کر چکی ہیں اور نتیجتاً کئی ٹرانسپورٹرز اپنے وہیکل پارک کر کے کام روک رہے ہیں۔

چوہدری نے بتایا کہ ڈیزل کی قیمتیں ‘انتہائی بلند سطح’ تک پہنچ گئی ہیں، جس کی وجہ سے ایندھن، ٹیکس اور دیگر لیویز نکالنے کے بعد ٹرانسپورٹرز کے لیے مناسب منافع کا امکان تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘سیکٹر کے چلانے سے ہونے والی بچتیں اب خساروں میں تبدیل ہو گئی ہیں۔’’

صدرِ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ ڈیزل قیمتوں میں اضافے کا اثر براہِ راست صارفین تک پہنچے گا کیونکہ ضروری اشیائے خوردونوش اور دیگر سامان کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ کر مہنگائی کو بڑھا دیں گے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صارفین اور کاروباروں کو مؤثر ریلیف دینے کے بجائے قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ لیا گیا ہے، اور اضافی لاگت آخرکار ٹرانسپورٹ چارجز اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں تبدیلی کی صورت میں عوام پر منتقل ہو جاتی ہے۔ چوہدری نے مطالبہ کیا کہ پیچیدہ اور غیر یقینی ریلیف پیکیجوں کے بجائے پٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمتوں میں براہِ راست کمی کی جائے؛ انہوں نے یاد دلایا کہ ٹرانسپورٹرز کو پہلے ماہانہ ریلیف پیکیجز کا وعدہ کیا جا چکا تھا۔

ماہرین اور ٹرانسپورٹر برادری کے لیے چیلنج یہ ہے کہ جب تک فی لیٹر ایندھن کی قیمتوں میں کمی یا واضح اور قابلِ عمل ریلیف نہ دیا گیا، متعدد مال بردار گاڑیاں سڑکوں سے ہٹ کر پارک رہ سکتی ہیں اور رسد کی لاگت میں مسلسل اضافے سے عوام پر دباؤ بڑھے گا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1518