ڈھائی دہائیاں بعد پیدا ہونے والی 54 سالہ سپنا کویتا اوبرائے بتاتی ہیں کہ 1947 کی تقسیم نے ان کے دادا، دادی اور خاندان کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔ منڈی بہاوالدین کے گاؤں بوسال میں رہنے والی سپنا کے مطابق حملوں، سرحدی بندش اور خوف کے باعث ان کے بڑے تایا انڈیا چلے گئے جبکہ دادا اور والد پاکستان میں ہی رہے؛ پڑوسی مسلمانوں نے ان کے دادا کی جان بچائی۔
‘‘پارٹیشن نے ہر اس فیملی کو تباہ کر دیا جس نے اپنا گھر چھوڑا،’’ یہ الفاظ سپنا کویتا اوبرائے کے ہیں۔ ان سے بی بی سی اردو کی ملاقات ضلع منڈی بہاوالدین کے گاؤں بوسال میں ہوئی۔
سپنا نے بتایا کہ سنہ 1947 میں ان کے دادا دیوان چند اوبرائے پنجاب کے ضلع گجرات میں ریٹائر زندگی گزار رہے تھے۔ بڑے تایا راجیندر ناتھ اوبرائے اُس وقت 32 سال کے اور کوئٹہ میں انجینئر کی نوکری کرتے تھے، جبکہ درباری لال اوبرائے 21 سالہ تھے اور انگلینڈ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ سپنا کے والد سرداری لال اوبرائے اس وقت محض 9 سال کے تھے اور اپنے والد کے ساتھ گجرات میں رہتے تھے۔
تقسیم کے قریب آنے سے قبل بڑے تایا اپنی فیملی سمیت کوئٹہ سے، اور چھوٹے تایا انگلینڈ سے دلی چلے گئے۔ دادا ہجرت کی تیاری کر رہے تھے مگر ان پر حملہ ہوا اور انہیں گولی لگی۔ رینجرز نے انہیں ہسپتال پہنچایا اور بعد ازاں وہ بوسال کی حویلی واپس آ گئے مگر وہاں بھی حملہ ہوا اور حویلی میں آگ لگا دی گئی۔ سپنا کے مطابق ‘‘دادا جی کو جب مردہ سمجھ کے چھوڑ دیا تو پڑوسی لوگوں نے ان کو چارپائی پر ڈال کر چھپا کر بچایا اور علاج کرایا۔’’
حدود بند ہونے کے بعد دادا نے انڈیا جانے کا فیصلہ ترک کر دیا، لہٰذا خاندان دو حصوں میں بٹ گیا: دو تایا انڈیا گئے جبکہ دادا، دادی اور والد پاکستان میں رہے۔ سپنا کی تین پھوپھیوں میں سے دو کی شادیاں انڈیا میں ہو گئیں۔ ایک پھوپھی رام پیاری راجستھان سے بوسال آئی تھیں مگر دنگوں کی وجہ سے انہیں واپس بھیجا گیا اور کیمپ میں دل کا دورہ پڑنے سے وہ انتقال کر گئیں؛ ان کے گھر والوں کو آج تک معلوم نہیں کہ وہ کہاں دفن ہیں۔
سپنا نے کہا کہ تقسیم کے صدمے نے دادی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا، دادی نے اپنے پانچ ایکڑ کے آموں کے باغ کا پھل کبھی نہ چکھا: ‘‘دادی کہتی تھیں کہ میں یہاں آم کھاؤں، پتا نہیں میرے بیٹوں اور بچوں کو وہاں ملتے بھی ہوں گے کہ نہیں۔’’
دوسری جانب تقریباً 560 سے 600 کلومیٹر دور شمال مغربی دہلی کے شالیمار باغ میں بڑے تایا کے بیٹے اویناش اوبرائے اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں۔ اویناش نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں کوئٹہ کے سہانے مناظر آج بھی یاد ہیں: ‘‘مجھے کوئٹہ اچھی طرح یاد ہے۔ ہم طاہر خان روڈ پر رہتے تھے… میں چھوٹا تھا، اس لیے میں بھی وہاں چلا جاتا۔’’ ابتدائی طور پر اویناش کا گھر میرٹھ منتقل ہوا اور والد نے چھوٹا کاروبار شروع کیا، جبکہ والدہ نے خاندان کی کفالت سنبھالی۔
بی بی سی اردو کا خلاصہ یہ ہے کہ دہائیوں بعد بھی دونوں طرف کے خاندان تقسیم کے درد کو یاد رکھے ہوئے ہیں؛ میلوں کے فاصلے اور ویزوں کے باوجود دلوں میں رشتے زندہ ہیں۔




