ابئی (ویب ڈیسک) جنوبی سوڈانی حکام نے کہا ہے کہ ابئی کے متنازعہ علاقے میں ایک بازار پر ڈرون حملے میں کم از کم 153 لوگ ہلاک ہو گئے ہیں اور حملہ کرنے والی افواج کے طور پر سوڈان کی فوج پر الزام لگایا گیا ہے۔
جنوبی سوڈانی حکام نے بتایا ہے کہ متنازعہ ابئی علاقے میں ایک بازار کو ہدف بنانے والے ڈرون حملے میں کم از کم 153 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ابئی کے قائم مقام وزیر اطلاعات یوہانہ اکول نگور نے منگل کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد پہلے 73 بتائی گئی تھی جو بعد ازاں 153 تک پہنچ چکی ہے۔
حکام کی طرف سے سوڈان کی فوج کو حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تاہم فوری طور پر سوڈان کی مسلح افواج کی جانب سے کوئی ردعمل موصول نہیں ہوا۔ عالمی میڈیا کے مطابق حملہ بازار میں موجود ایک ایندھن کے ڈپو پر ہوا جو ماضی میں ریپیڈ سپورٹس فورسز (آر ایس ایف) کی سپلائی کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
یہ حملہ سوڈان میں اپریل 2023ء سے جاری جنگ کی شدت اور اِس کے پڑوسی علاقوں تک پھیلنے والی تباہ کاری کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ حملہ دو ملکوں کی سرحدی کشیدگی میں سب سے مہلک واقعات میں سے ایک ہے۔
امدادی ذرائع اور مقامی حکام کے مطابق حملے کے وقت بازار میں بھیڑ تھی اور ایندھن کے ڈپو کے لگنے سے دھماکے اور آگ کے باعث ہلاکتیں اور زخمیوں کی شرح بڑھی۔ آخری اطلاعات تک امدادی کارروائیاں جاری تھیں جبکہ مقامی انتظامیہ لاشوں اور زخمیوں کی حتمی گنتی کرنے میں مصروف تھی۔




