مصر کی مددِ فوجی سعودی سرزمین کے دفاع تک محدود ہو گی، یمن پر حملہ شامل نہیں، عبدالفتاح سیسی

مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے کہا ہے کہ مصر کی سعودی عرب کی فوجی مدد یمن پر حملے تک نہیں جائے گی اور صرف مملکت کی سرحدوں اور علاقے کے دفاع تک محدود رہے گی۔

لاہور (ویب ڈیسک) مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے کہا ہے کہ مصر کی سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی کوشش یمن پر حملے تک نہیں پھیلے گی اور صرف مملکت کی سرحدوں اور علاقے کے دفاع تک محدود رہے گی۔

مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے ایک سرکاری بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر مصر سے سعودی عرب کے دفاع میں فوجی مدد طلب کی گئی تو یہ کارروائی یمن پر حملے تک نہیں جائے گی بلکہ سعودی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود رہے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ مصر اس اقدام میں دیگر عرب ممالک کی طرح مشترکہ علاقائی سلامتی کے مفاد کو مدنظر رکھے گا اور اس کی فوجی کوشش مصر کی حدود یا اس کی مدد کرنے والے کسی عرب ملک سے باہر نہیں جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق مصر کی پارلیمنٹ نے مسلح افواج کو سعودی عرب کی مدد کے لیے اختیار دینے کے معاملے پر ووٹ کو 26 اکتوبر تک ملتوی کر دیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قانون ساز اس معاملے پر طویل بحث کر رہے ہیں۔

ذرائع نے کہا ہے کہ یہ مباحثہ حالیہ دنوں میں یمن کی جانب سے ہوائی حملوں کے بعد ایک ممکنہ بڑھتی ہوئی مصری شرکت پر توجہ کی وجہ سے جاری ہے۔ سِسی نے یہ بھی کہا کہ مصر سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات کے مطابق عمل کرے گا۔

مصری صدر نے گزشتہ ہفتے بھی کہا تھا کہ اگر درخواست کی گئی تو قاہرہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ مصر اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک اور معاشی تعلقات مضبوط ہیں اور خطے کی سلامتی کے حوالہ سے دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کو اہمیت حاصل ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب یمن کے ایران کے ہمراہ تعلق رکھنے والے حوثی باغیوں نے حالیہ دنوں میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی ارامکو کو نشانہ بنایا تھا، اور یمن میں جنگ میں تجدیدِ تشدد کے بعد سعودی حمایت یافتہ فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2750