نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) آج سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست پر غور کرے گی، جس میں جولائی 2026 کے ماہ کے لیے ماہانہ ایندھن قیمت ایڈجسٹمنٹ کے تحت فی یونٹ 2.52 روپے اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔
اسلام آباد — نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) آج ایک ہئیرنگ میں فیصلہ کرے گی کہ آیا جولائی 2026 کے لیے ماہانہ ایندھن قیمت ایڈجسٹمنٹ کے تحت فی یونٹ 2.52 روپے اضافہ منظور کیا جائے یا نہیں۔ یہ درخواست سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے جمع کروائی ہے۔
سی پی پی اے نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ جولائی میں بجلی پیداوار کے اخراجات بلند رہے۔ دستاویزات کے مطابق ڈیزل سے پیدا ہونے والی بجلی کا خرچ فی یونٹ 50 روپے تک پہنچا، جبکہ درآمد شدہ کوئلے پر مبنی پیداوار کا خرچ 54.47 روپے فی یونٹ رہا۔ اسی ماہ درآمد شدہ ایل این جی (ایل این جی) سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت 47.37 روپے فی یونٹ رہی۔
اگر نیپرا نے یہ 2.52 روپے فی یونٹ کا اضافہ منظور کیا تو یہ اضافہ ایک ماہ کے لیے نافذ ہوگا اور حتمی صارفین پر اس کا اثر نیپرا کے حتمی فیصلے پر منحصر ہوگا۔ نیپرا نے حال ہی میں جون 2026 کے ماہانہ ایندھن ایڈجسٹمنٹ میں فی یونٹ 0.75 روپے اضافہ بھی منظور کیا تھا، جو اگست میں جاری ہونے والے بجلی کے بلوں میں شامل کیا گیا تھا۔
نیپرا کا فیصلہ توانائی کے شعبہ میں آمدنی اور صارفین کے بل ادائیگی کے بوجھ کے توازن کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ سرکاری و توانائی ذرائع کے مطابق برساتی قیمتوں، عالمی توانائی منڈی کی تبدیلیوں اور ایندھن کی رسد کے عوامل سے مقامی پیداوار کے اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔ حتمی حُکم آنے تک صارفین کی جانب سے بلوں پر ممکنہ اضافے کا دارومدار نیپرا کے اعلان پر ہوگا۔




