انگلینڈ کے فاسٹ بولر برائیڈن کارس کو سنیچر کی شب ڈربی کے نائٹ کلب کے باہر ہتھکڑیوں میں دکھائی دینے اور مختصر حراست کے واقعے کی تفتیش کے باعث پاکستان کے خلاف لارڈز میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ کے سکواڈ سے خارج کر دیا گیا؛ انھیں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے کرکٹ ریگولیٹر کے پاس ریفر کیا اور ان کی جگہ سونی بیکر کو شامل کیا گیا۔
اتوار کو سوشل میڈیا پر منظر عام پر آنے والی تصاویر اور ویڈیو میں 31 سالہ برائیڈن کارس کو ڈربی کے نائٹ کلب کے باہر ہتھکڑیوں میں دیکھا گیا، جس کے بعد ڈربی شائر پولیس نے تصدیق کی کہ ’30 سال کی عمر کے ایک فرد کو سنیچر کی شب 22 اگست کو ڈربی سٹی سینٹر میں نشے میں ہنگامہ آرائی کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔‘ پولیس نے کہا کہ مذکورہ فرد بعد ازاں علاقہ چھوڑنے پر رضامند ہو گیا اور کچھ ہی دیر بعد رہا کر دیا گیا۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے فوری طور پر واقعے کو کرکٹ کے آزاد نگران ادارے ’کرکٹ ریگولیٹر‘ کے حوالے کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ریگولیٹر اس واقعے کی تحقیقات کرے گا۔ ای سی بی کے بیان کے مطابق ’تحقیقات جاری رہنے اور واقعے سے متعلق مکمل حقائق سامنے آنے تک برائیڈن کارس دوسرے ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔‘
کارس کو دوسرے ٹیسٹ کے سکواڈ سے باہر کر کے ان کی جگہ سونی بیکر کو شامل کیا گیا ہے۔ کارس اس سیریز کے پہلے ٹیسٹ کا حصہ تھے جو ہیڈنگلے میں کھیلا گیا اور میزبان ٹیم نے وہ میچ تین دن کے اندر ایک اننگز سے جیت لیا تھا۔
ڈرہم کی جانب سے انہیں ڈویژن ٹو کی ٹاپ ٹیم ڈربی شائر کے خلاف میچ کھیلنے کے لیے ریلیز کیا گیا تھا، اور میچ کی کامیابی کے بعد ہی نائٹ کلب کے باہر کارس کی ہتھکڑیوں میں ایک ویڈیو سامنے آئی۔ ویڈیو میں ڈرہم کے دوسرے کھلاڑی میتھیو پوٹس بھی موجود تھے جبکہ سابق انگلش کپتان بین سٹوکس پس منظر میں نظر آئے؛ سٹوکس اب بھی ای سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ پر ہیں۔
یہ واقعہ انگلینڈ کی ٹیم کے ساتھ اس موسم گرما میں پیش آنے والے متعدد آف دی فیلڈ واقعات کی تازہ کڑی ہے۔ سنہ 2024 میں کارس کو بیٹنگ سے متعلق خلاف ورزیوں پر تین ماہ کی معطلی کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم اس کے بعد وہ اپنی کارکردگی بہتر کر کے تینوں فارمیٹس میں مستقل کھلاڑی بن گئے۔ اکتوبر 2024 میں ٹیسٹ ڈیبیو کے بعد سے انہوں نے 58 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کی ہیں۔
کارس کے سکواڈ سے باہر کیے جانے کے بعد 23 سالہ ایم بی ایکر کے لیے موقع پیدا ہو گیا ہے، جنھوں نے جون میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا واحد ٹیسٹ کھیلا تھا۔ کرکٹ ریگولیٹر کی تحقیقات کے نتائج آنے پر ای سی بی آئندہ ریمارکس دے گی۔




