پاکستان نے بہروں کے لیے مصنوعی ذہانت مترجم ‘سیلا’ کا تعارف کرایا

پاکستان میں بہروں کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی مترجم 'سیلا' متعارف کرایا گیا؛ یہ سونو ٹیک منصوبے کا حصہ ہے جسے کنیکٹ ہئیر نے تیار کیا اور جی ایس ایم اے پاکستان اور یوفون نے تعاون دیا۔

اسلام آباد — پاکستان میں بہریں اور ناقص سماعت رکھنے والے افراد کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی مترجم ‘سیلا’ متعارف کرایا گیا جو ہنگامی حالات میں بروقت اطلاعات اور وارننگ فراہم کر کے زندگیوں کو محفوظ بنانے میں مدد دے گا، اس منصوبے کی برطانیہ کی طرف سے تکنیکی معاونت بھی شامل ہے۔

حکومتِ پاکستان یا کسی سرکاری ادارے کی براہِ راست تصدیق کا حوالہ منظرِ عام پر نہیں آیا، تاہم ٹیکنالوجی ویب سائٹ پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق ‘سیلا’ نامی یہ اے آئی مترجم سونو/سنو ٹیک منصوبے کے تحت پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی ہائی کمیشنر نے کہا کہ برطانیہ نے سونو ٹیک منصوبے کی حمایت کی ہے، جو ایک جامع ابتدائی وارننگ نظام ہے اور اس میں بہریں یا ناقص سماعت والے شہری بھی شامل ہیں۔ برطانوی نمائندے نے اس ٹیکنالوجی کی ڈیمونسٹریشن بہروں کے طلبہ کی ایک سہولت پر بھی کی اور طلبہ سے سیکھا کہ اس کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے۔

اس نظام کو ٹیکنالوجی کمپنی کنیکٹ ہئیر نے تیار کیا ہے جبکہ جی ایس ایم ایسوسی ایشن (جی ایس ایم اے) پاکستان اور یوفون نے تعاون فراہم کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کا مقصد ہنگامی صورتحال، قدرتی آفات اور دیگر خطرات کے بارے میں بہروں کو بروقت اور سمجھ میں آنے والی معلومات مہیا کرنا ہے تاکہ وہ مؤثر حفاظتی اقدامات کر سکیں۔

برطانوی ہائی کمیشنر جین میریاٹ نے بھی ٹویٹر پر اس تعاون کا ذکر کیا اور کہا کہ ‘سیلا’ ایک ایسا اے آئی ترجمان ہے جو پاکستان میں زندگیاں بچانے میں مدد کر رہا ہے، اور انہوں نے ڈی ای ڈبلیو اے کے بہروں کے متاثر کن طلبہ کی کارکردگی کی تعریف کی۔

رپورٹ میں منصوبے کی مزید تکنیکی تفصیلات یا عملی نفاذ کے دائرہ کار کا ذکر محدود ہے۔ پروپاکستانی نے بتایا کہ کنیکٹ ہئیر اور تعاون کرنے والے پارٹنرز مستقبل میں اس نظام کو وسیع کرنے یا عوامی نفاذ کے متعلق مزید معلومات مہیا کر سکتے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1514