(ویب ڈیسک) ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ انہوں نے آج اپنی سرزمین پر یوکرائن کے صدر زیبیسنکی کو دوبارہ خوش آمدید کہا اور دونوں نے یوکرائن میں امن کے لیے بڑھتی ہوئی کوششیں اور بحیرہ اسود کی سلامتی تفصیل سے زیرِ بحث لائی۔
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے بتایا ہے کہ انہوں نے آج وطن میں یوکرائن کے صدر کو دوبارہ میزبانی کر کے خوشی محسوس کی۔ ایردوآن نے اپنے بیان میں کہا کہ ملاقات میں “یوکرائن میں امن کے قیام کے لیے حالیہ عرصے میں بڑھائی گئی کوششوں” اور “بحیرہ اسود میں سلامتی کے حالات” پر مفصل گفتگو ہوئی۔
صدر ایردوآن کے الفاظ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں تشویش کے پہلوؤں اور امن کی کوششوں کے ممکنہ راستوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے ملاقات کی جزئیات یا کسی مخصوص نتیجے کا حوالہ نہیں دیا بلکہ عمومی طور پر گفتگوات کو امن اور سیکورٹی کے موضوعات تک محدود بتایا۔
سرکراہِ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ترکی نے دوبارہ سے زیلنسکی کی میزبانی کی اور بات چیت کا محور امن کی کوششوں اور بحیرہ اسود کی سیکورٹی رہا۔ بیان میں ملاقات کے بارے میں مزید تفصیلی کارروائی، مشترکہ اعلامیہ یا کوئی نمائی طور پر تصریح شدہ نتیجہ شامل نہیں کیا گیا۔
ایردوآن کا یہ بیان اسی روز جاری کیا گیا۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا کہ ملاقات میں دونوں فریق نے خطے میں امن و سلامتی کے اہم موضوعات پر بات کی، مگر کسی نئے معاہدے، اعلان یا کارروائی کا ذکر چشم گیر انداز میں موجود نہیں۔




