ایف بی آر بینکوں کو لازم قرار دے گا: ایک کروڑ روپے سے زائد لین دین خودکار طور پر رپورٹ ہوں گے

ایف بی آر نے مالیاتی ایکٹ 2026 کے تحت ایک کروڑ روپے سے زائد لین دین بینکوں اور الیکٹرانک رقم کے اداروں سے مرکزی ڈیٹا مرکز کو رپورٹ کرنے کو لازمی قرار دے دیا، خودکار موازنہ سے تضادات کی نشاندہی ممکن ہوگی۔

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالیاتی ایکٹ 2026 کے تحت بینکوں اور الیکٹرانک رقم کے اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک کروڑ روپے سے زائد مالی لین دین اپنے مرکزی ڈیٹا مرکز کو لازمی طور پر رپورٹ کریں تاکہ خودکار موازنہ کے ذریعے ٹیکس اور بینک ریکارڈز کی تصدیق کی جا سکے۔

کراچی — وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالیاتی ایکٹ 2026 کے تحت بینکوں اور الیکٹرانک رقم کے اداروں پر پابندی عائد کی ہے کہ وہ ایک کروڑ روپے سے زیادہ کے ٹرانزیکشنز کی تفصیل ایف بی آر کے مرکزی ڈیٹا مرکز کو فراہم کریں۔

ایف بی آر کے اس اقدام کا مقصد بڑے مالیاتی معاملات کو ٹیکس دہندگان کے ٹیکس اور بینک کے ریکارڈ سے خودکار طور پر ملا کر مماثلت تلاش کرنا ہے، جس سے آمدنی کی رپورٹنگ اور مالی سرگرمیوں میں ممکنہ تضادات نمایاں ہوں گے۔ اگر خودکار موازنہ میں فرق سامنے آیا تو یہ مزید کارروائی کی ابتدا کا سبب بن سکتا ہے۔

حکومت نے یہ قدم ٹیکس انتظامیہ میں ڈیجیٹل ڈیٹا اور خودکار نظاموں کے استعمال کو بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کے حصے کے طور پر اٹھایا ہے، تاکہ بڑی رقم کے لین دین کی نگرانی میں شفافیت اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔

ماخذ کے مطابق، یہ نظام بینکوں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے بھیجے جانے والے مالیاتی ڈیٹا کی بنیاد پر خودکار طور پر مماثلت کرے گا، جس سے ٹیکس ادائیگی اور اثاثہ جات کے مابین فرق کی شناخت آسان ہو جائے گی۔

فیصلے کی نفاذی تاریخ اور تکنیکی تفصیلات مثلاً ڈیٹا رپورٹنگ کا فارمیٹ، ڈیٹا تحفظ یا رازداری کے طریقہ کار ماخذ میں وضاحت نہیں کی گئی؛ متعلقہ ادارے مزید ہدایات جاری کر سکتے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516