فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ان لینڈ ریونیو سروس کے بی ایس-18 افسر خرم فخر صدیقی کو بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات ثابت ہونے پر سروس سے فوری طور پر برطرف کر دیا۔ یہ سزا وزیراعظم شہباز شریف نے سیول سرونٹس (افیشینسی اینڈ ڈسپلن) رولز، 2020 کے تحت بطور مجاز اتھارٹی عائد کی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ تادیبی کاروائیوں میں افسر کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات ثابت ہوئے ہیں اور اسی بنیاد پر اسے سروس سے نکال دیا گیا۔ برطرفی کا حکم فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا۔
نوٹیفیکیشن میں یہ بھی درج ہے کہ مجرمانہ یا انتظامی کارروائی کے خلاف افسر کو نوٹیفیکیشن وصول ہونے کے 30 دن کے اندر اپیل کرنے کا حق حاصل ہے، اور اپیل متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی کے سامنے دائر کی جا سکتی ہے۔
ایف بی آر نے اس قدم کو اپنے اندرونی احتسابی اقدامات کے تسلسل میں قرار دیا ہے۔ ٹیکس حکام نے گزشتہ عرصے میں کہا تھا کہ جو افسران بدعنوانی یا بدانتظامی میں ملوث پائے جائیں گے انہیں تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ادارے نے ٹیکس دہندگان کے لیے شکایات درج کرنے کے نئے طریقہ کار بھی متعارف کرائے ہیں تاکہ اہلکاروں کی مبینہ کرپشن کی اطلاع دی جا سکے۔
سرکاری اعلامیے میں برطرفی کی مزید تفصیلات یا الزامات کی نوعیت کے بارے میں تفصیلی وضاحت شامل نہیں کی گئی۔ ایف بی آر کی جانب سے روایتی طور پر ایسے معاملات میں تادیبی کاروائیوں اور اندرونی جانچ کی فہرست جاری کی جاتی ہے، جس کے بعد متعلقہ افسران کو رسمی نوٹس اور اپیل کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔




