فلائی دبئی واقعہ: 48 گھنٹے پہلے معلومات کے باوجود عمانی کو پائلٹ کی حیثیت سے کلیئرنس کیسے ملی؟
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلائی دبئی کی تل ابیب جانے والی پرواز میں مبینہ طور پر کو پائلٹ کی جانب سے کپتان پر حملہ اور طیارہ گرانے کی کوشش نے اسرائیل کے انتہائی سخت فضائی سکیورٹی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ 30 ستمبر کو پرواز FZ1073 سعودی عرب کے تبوک میں ہنگامی طور پر اتری، جب مبینہ حملے کے بعد طیارہ تیزی سے بلندی کھونے لگا۔ کپتان زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوا، جس کے بعد مسافروں اور دو آف ڈیوٹی پائلٹس نے صورتحال سنبھالنے میں مدد کی۔
اصل سوال اب یہ نہیں کہ عمانی شہریت رکھنے والا شخص اسرائیل جانے والی پرواز میں موجود کیسے تھا بلکہ یہ ہے کہ اس کی شناخت اور شہریت کی معلومات موجود ہونے کے باوجود اسے خطرے کے طور پر کیوں نہیں دیکھا گیا۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق فلائی دبئی نے پرواز سے پہلے مسافروں اور عملے کا مکمل ڈیٹا اسرائیلی نظام کو فراہم کیا تھا، جس میں کو پائلٹ کی عمان کی شہریت بھی شامل تھی۔ یہ معلومات مبینہ طور پر ٹیکس اتھارٹی کے نیشنل پسنجر ڈیٹا سینٹر تک پہنچیں، مگر متعلقہ سکیورٹی اداروں نے اسے مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیا۔
یہاں ایک اہم قانونی نکتہ بھی سامنے آتا ہے۔ اسرائیل کا 2023 کا مسافروں کے کوائف سے متعلق قانون مسافروں اور عملے کی شہریت، پاسپورٹ اور شناختی معلومات جمع کرنے اور دہشت گردی کی روک تھام سمیت سکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال کی اجازت دیتا ہے۔
تاریخی تناظر اور اصل سکیورٹی خلا
اسرائیل نے طویل عرصے سے بیرونی ایئرلائنز کے پائلٹس اور عملے کی سکیورٹی کو حساس معاملہ سمجھا ہے، خصوصاً ان ممالک کے شہریوں کے حوالے سے جن کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں۔ عمان اور اسرائیل کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں۔
مزید حیران کن انکشاف یہ ہے کہ AP کے مطابق مذکورہ کو پائلٹ کو پہلے عمان ایئر میں پرواز سے روک کر دفتر کے کام پر منتقل کیا گیا تھا، کیونکہ حکام کو اس کے مبینہ انتہا پسندانہ رجحانات پر تشویش تھی۔ بعد میں وہ فلائی دبئی میں ملازم ہوگیا، لیکن اس کی سابقہ ملازمت سے متعلق معلومات نئے آجر تک کس حد تک پہنچی، یہ ابھی تحقیقات کا حصہ ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیلی ذرائع کے مطابق متعلقہ وزارتِ ٹرانسپورٹ نے تقریباً دو سال تک غیر ملکی پروازوں کے عملے کے ڈیٹا کو باقاعدگی سے نہیں کھینچا یا جانچا۔



