اسلام آباد ( ویب ڈیسک) رؤف کلاسرا لکھتے ہیں کہ وہ کسی پر طعنہ نہیں دے رہے بلکہ ‘ہم سب انسان مشکلات سے سیکھتے ہیں’، اور انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے نومبر 2024ء میں اپنے اہل خانہ کو وصیت کی تھی کہ ‘میرا جنازہ پڑھ لینا’ اور ‘ورکرز کفن پہن کر آئیں، ماریں یا مر جائیں’۔
رؤف کلاسرا نے اپنی تازہ تحریر میں کہا ہے کہ مقصد طعنے بازی نہیں بلکہ انسانوں کی غلطیوں اور تجربات سے سیکھنے کو اجاگر کرنا ہے۔ کلاسرا نے براہِ راست حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘ہم سب انسان مشکلات سے سیکھتے ہیں، تجربات ہمیں بہتر انسان بناتے ہیں’۔
تحریر میں وہی سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا حوالہ دیا گیا ہے جن کے بارے میں کلاسرا نے بتایا کہ ‘یہ وہی سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور ہیں جو نومبر 2024ء میں اپنے گھر والوں کو وصیت کر کے آئے تھے: میرا جنازہ پڑھ لینا، ورکرز کفن پہن کر آئیں، ماریں یا مر جائیں’۔
کلاسرا نے اپنی عبارت میں ایک اور غیر مکمل حوالہ بھی شامل کیا جس میں کہا گیا ہے ‘اسلام آباد پر سومنات کی طرح سترہ حملے کر کے اُسے فتح کر دینے کے پاکستان تحریک انصاف کے خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کے بیان کا بھی حوالہ دیا۔
کلاسرا کی تحریر مجموعی طور پر اس پیغام پر زور دیتی ہے کہ سیاسی شخصیات اور رویوں پر تنقید یا تذکرہ کرتے ہوئے بھی بنیادی نکتہ یہ ہونا چاہیے کہ مشکلات سے سبق حاصل کیا جائے۔ انہوں نے براہِ راست طنز یا دشنام سے اجتناب کرتے ہوئے سیکھنے اور تجربات کی اہمیت کو سامنے رکھا ہے۔




