مایوسی پھیلانے والوں کا علاج معیشت کی بہتری ہے، سہیل وڑائچ

سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ملک کے خلاف مایوسی پھیلانے والوں کا موثر جواب معیشت کی بحالی ہے اور بیرونِ ملک جانے والے لوگ عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتے۔

لاہور (سٹاف رپورٹر) معروف کالم نگار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ملک میں مایوسی پھیلانے والوں کا واحد موثر جواب معیشت کی بحالی ہے اور بیرونِ ملک چلے جانے والے افراد پاکستانی عوام کے دکھوں کا ازخود مداوا نہیں کرسکتے۔

کالم نگار سہیل وڑائچ نے ایک تجزیاتی نوٹ میں خبردار کیا ہے کہ ملک کے بارے میں مایوسی پھیلانے والوں کو صرف تنقید سے روکا نہیں جا سکتا بلکہ انہیں مؤثر جواب معاشی بہتری کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔ وڑائچ نے لکھا ہے کہ “ملک کے بارے میں مایوسی پھیلانے والوں کا اور تو کوئی علاج نہیں البتہ پاکستان کی معیشت کو سنوار کر انہیں منہ توڑ جواب دیا جاسکتا ہے۔”

انہوں نے اس تناظر میں اس رویے پر تشویش کا اظہار بھی کیا کہ بعض افراد نے پاکستان میں اپنی کشتیاں جلا کر بیرونِ ملک جانا اختیار کیا ہے، اور ایسے لوگ ‘‘نہ پاکستانیوں کے دکھوں کا احساس رکھتے ہیں اور نہ ہی وہ ہمارے دکھوں کا صحیح طور پر مداوا کرسکتے ہیں۔’’ وڑائچ کا اشارہ ان لوگوں کی جانب ہے جو مشکلات میں ملک کو چھوڑ کر چلے گئے اور اب اس پر تنقید کرتے ہیں۔

کالم میں زور دیا گیا ہے کہ قومی مسائل کا حل بیرونی تنقید میں نہیں بلکہ داخلی اصلاحات، معاشی استحکام اور عوامی فلاح و بہبود پر مرتکز حکمتِ عملیاں اختیار کرنے میں مضمر ہے۔ وڑائچ نے واضح کیا کہ معاشی اقدامات اور پالیسی اصلاحات ہی ایسے ناامید کن بیانات کا حقیقی و عملی جواب بن سکتی ہیں، جبکہ بیرونی یا ناصرف وطن چھوڑنے والے بیانات سے عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2756