جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں نامعلوم ہیکرز نے یونیورسٹی کے آئی ٹی سسٹم میں داخل ہو کر 32 طلبہ کے 72 کورسوں کے نتائج میں تبدیلیاں کرنے کی کوشش کیں، کنٹرولر آفس نے آن لائن اور دستی ریکارڈ میں تضاد نوٹ کر کے نتائج روک دیے اور کیس ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو بھجوا دیا۔
جی سی یونیورسٹی فیصل آباد نے اپنی آئی ٹی سسٹم میں سنگین سکیورٹی خلاف ورزی کی رپورٹ جاری کی ہے جہاں یونیورسٹی کے حکام کے مطابق غیر مجاز صارفین نے فیکلٹی پورٹل تک رسائی حاصل کر کے 32 طلبہ کے کل 72 کورسوں کے نتائج میں تبدیلیاں کیں یا نمبروں میں اضافے کی کوشش کی گئی۔
کنٹرولر آفس نے آن لائن ریکارڈ اور دستی ریکارڈ کے مابین عدم مطابقت کی نشان دہی کی، جس کے بعد خلاف ورزی سامنے آنے پر متعلقہ نتائج کو جاری کرنے سے روک دیا گیا۔ حکام نے بتایا ہے کہ کنٹرولر آفس نے تضاد کی نشاندہی کے بعد فوری طور پر معاملے کی چھان بین شروع کی۔
یونیورسٹی نے واقعے کی تفتیش کے لیے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے رجوع کر کے اُسے رسمی درخواست بھی بھیج دی ہے۔ درخواست میں یونیورسٹی نے کہا کہ نامعلوم افراد نے طلبہ کے نمبروں میں تبدیلی کے عوض مبینہ طور پر رقم بھی وصول کی۔
حکام کے مطابق متعدد اساتذہ کے فیکلٹی پورٹلوں تک رسائی مختلف تاریخوں پر ایک ہی آئی پی ایڈریس سے متواتر ہوئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ داخلہ ایک مخصوص راستے سے ممکن ہوا۔
یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ اِسوقت تک کسی بھی طالب علم کو جعلسازی شدہ ڈیٹیلڈ مارکس شیٹ جاری نہیں کیا گیا، یعنی تبدیل شدہ ریکارڈ کی بنیاد پر ابھی تک کوئی باضابطہ دستاویز نہیں دی گئی۔
اس واقعے نے یونیورسٹی کے امتحانی نظام اور ڈیٹا سکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور ادارے نے سسٹم کی حفاظت کے انتظامات اور لاگنگ میکانزم کی جانچ کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ داخل ہونے والے تمام لاگ اور متعلقہ رجسٹریشنوں کی فنی طور پر تفتیش کی جائے گی اور نتیجہ آنے تک متعلقہ نتائج معطل رہیں گے۔
یہ واقعہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل سسٹمز کی سکیورٹی اور شفافیت کے معاملات کو اجاگر کرتا ہے جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ فائنل تفتیش رپورٹ کے بعد مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔




