لاہور (ویب ڈیسک) جرمنی کے سابق انٹیلی جنس سربراہ آؤگُسٹ ہاننگ کو اس ہفتے جاسوسی اور غداری کے شبے میں گرفتار کیے جانے کے بعد یورپی خفیہ ادارے خطرے کے سائز اور خفیہ معلومات کے ممکنہ افشاء کو جانچ رہے ہیں۔
یورپی خفیہ ادارے جرمنی کے سابق خفیہ ادارے بی این ڈی کے سربراہ آؤگُسٹ ہاننگ کی گرفتاری کے بعد یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خفیہ معلومات افشا ہونے کا خدشہ کس حد تک درست ہے اور اس کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔
ڈبلیو اردو کے فراہم کردہ مواد کے مطابق ہاننگ کو اس ہفتے جاسوسی اور غداری کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔ بی این ڈی کے ایک سابق چیف آف اسٹاف کو بھی اسی معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ جرمن میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اس مقدمے کا بظاہر روس سے تعلق دکھائی نہیں دیتا، مگر سینکڑوں خفیہ دستاویزات کی مبینہ خرید و فروخت اور غیر ملکی حکام تک معلومات پہنچانے کے الزامات بی این ڈی کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ زیرِ تفتیش دستاویزات میں وزیراعظم کے دفتر یا دیگر اعلیٰ حکام کے لیے بنائی گئی بریفنگز شامل تھیں، جب کہ الزام ہے کہ مانفریڈ ڈی نے ہاننگ کو تقریباً 2000 دستاویزات فراہم کیں۔ ایک یورپی انٹیلی جنس عہدیدار نے کہا کہ بعض شراکت دار ادارے یہ اب جانچ رہے ہیں کہ گزشتہ برسوں میں جرمنی کے ساتھ شیئر کی گئی معلومات کہیں افشا تو نہیں ہوئیں۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ دستاویزات میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی معلومات بھی شامل تھیں، تاہم سی آئی اے نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ جرمنی کے سکیورٹی حلقوں میں خدشات اس لیے بھی بڑھ گئے کہ گرفتار شدگان دونوں ہی ملک کے سکیورٹی نظام کے اعلیٰ حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے شراکت دار اداروں کے ساتھ اعتماد کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کو انتباہی سطح کا قرار دیا جا رہا ہے۔
ابھی تک واضح نہیں کیا گیا کہ کون سی مخصوص معلومات فراہم کی گئیں اور کون کون سے دیگر فریق اس میں ملوث ہیں۔ یورپی خفیہ ادارے ممکنہ نقصان کا تعین کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ وقت کے ساتھ مزید تفتیشی اور شراکتی نتائج سامنے آئیں گے۔




