ٹرمپ انتظامیہ نے کئی بڑی بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کو مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام سے معطل کر دیاکیا

ٹرمپ انتظامیہ نے کئی بڑی بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کو مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام سے عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، امریکہ نے مبینہ قواعد کی خلاف ورزی اور امریکی ملازمتوں کی ترجیح کا حوالہ دیا جبکہ نئی دہلی نے اعتراض کیا۔

لاہور (ویب ڈیسک) ٹرمپ انتظامیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کئی بڑی بھارتی آئی ٹی کمپنیوں نے امریکی ملازمتوں کے بجائے غیر ملکی ملازمین کو ملازمتیں دے کر پروگرام کے قواعد کی خلاف ورزی کی، اس بنیاد پر ان کمپنیوں کی مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام سے خدمات فی الحال روک دی گئی ہیں۔

امریکی محکمۂ محنت کے اعلان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام سے بھارت کی کئی بڑی آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کی خدمات معطل کر دی ہیں۔ خبر کے متن میں نام لیے گئے اداروں میں کاگنیزنٹ، انفوسس، ٹاٹا، وپرو، ایچ سی ایل اور کیپجمنی شامل ہیں۔

اعلان کرنے والے وزیر محنت کیتھ زونڈرلنگ نے کہا ہے کہ یہ کمپنیاں ’’کئی دہائیوں سے اس نظام کے غلط استعمال کو ممکن بنا رہی ہیں‘‘ اور متعدد جاری وفاقی تحقیقات کے سبب یہ اقدام کیا گیا ہے۔ محکمۂ محنت نے مبینہ دھوکہ دہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض کمپنیوں نے امریکی کارکنوں کو روزگار دینے کی بجائے غیر ملکی ملازمین کو ترجیح دی۔

کیتھ نے ایک بیان میں کہا، ‘‘ملازمتیں پہلے امریکیوں کو ملنی چاہئیں تھیں اور اب بھی سب سے پہلے امریکیوں ہی کو ملیں گی۔’’ خبر رساں ایجنسیوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ محکمۂ محنت نے مائیکروسافٹ اور ایڈوب کو بھی عارضی طور پر اسی پروگرام سے خارج کیا ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکہ کے اعلان کردہ اقدامات ‘‘دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کے حصول میں مددگار نہیں ہیں۔’’ وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارتی ماہرین اور آئی ٹی شعبے کی مہارتیں جدت، تحقیق اور پیداواری صلاحیت کو فروغ دیتی ہیں اور ان مواقع کا از سرِ نو جائزہ لیا جانا چاہیے۔

بھارتی میڈیا میں شائع رپورٹس اور سرکاری بیانات میں اس اقدام کو بھارتی پیشہ ور افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ امریکی اعلان صدر ٹرمپ کی جانب سے ورلڈ اسٹیج پر ملازمتوں کو پہلے رکھنے کی پالیسی کے تسلسل کے طور پر دکھائی گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب چند گھنٹے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک تقریب میں بھارتی نژاد مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹیو ستیہ نڈیلا کو قومی تمغہ برائے ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن سے نوازا تھا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ معطلی کا دائرہ کار کب تک جاری رہے گا اور متاثرہ کمپنیوں کی جانب سے یہ معاملہ قانونی یا سفارتی چینلز کے ذریعے چیلنج کیا جائے گا یا نہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2854