جرمنی میں اس موسمِ گرما میں گرمی سے متعلق اموات کی تعداد تقریباً 14,000 ریکارڈ کی گئی، رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ (آر کے آئی) نے کہا۔ جون کے آخر میں ایک ہفتے کے دوران تقریباﹰ 9,600 افراد گرمی سے ہلاک ہوئے، جب بعض علاقوں میں درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔
جرمنی کے سرکاری صحت کے ادارے رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ (آر کے آئی) نے بتایا ہے کہ اس سال کے موسمِ گرما میں گرمی سے متعلق اموات نے ایک نیا قومی ریکارڈ قائم کیا۔ ادارے کے اندازوں کے مطابق تقریباً 14,000 افراد گرمی سے جڑی پیچیدگیوں کے باعث ہلاک ہوئے، جن میں ایک ہی ہفتے کے دوران جون کے آخر میں تقریباﹰ 9,600 اموات شامل تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمر رسیدہ افراد بالخصوص 75 سال سے زائد عمر کے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور گرمی سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی تعداد انہی گروپس میں دیکھی گئی۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ شدید گرمی کے دوران کمزور اور عمر رسیدہ افراد کو خاص حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
شدید گرمی کے ساتھ ساتھ ملک کے متعدد حصّوں میں خشک سالی کے آثار بھی سامنے آئے، جن کے باعث جنگلاتی آگ، فصلوں کو نقصان اور دریاؤں میں پانی کی سطح میں کمی جیسی مشکلات رپورٹ کی گئیں۔ ماحولیاتی دباؤ اور پانی کی کمی نے صحت پر اضافی اثرات مرتب کیے، جو کہ ایسے واقعات کی سنگینی بڑھاتے ہیں۔
یہ تازہ اعداد و شمار 2018 کے ریکارڈ کے مقابلے میں خاطرخواہ اضافہ ظاہر کرتے ہیں، جب رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اُس سال گرمی سے متعلق اموات تقریباﹰ 8,900 تھیں۔ مسلسل بڑھتے ہوئے شدید درجۂ حرارت نے ملک میں گرمی سے تحفظ کے اقدامات، ابتدائی انتباہی نظام اور خطرے والے افراد کی حفاظت پر توجہ میں اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹ اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ موسمیاتی واقعات کے بڑھتے ہوئے رجحانات صحت عامہ کے بارے میں پالیسی سازوں اور مقامی انتظامیہ کے لیے چیلنج بڑھا رہے ہیں، خصوصاً جب طویل دورانیے کی گرمی لوگوں کی زندگیوں اور روزمرہ ضروریات جیسے پانی اور خوراک کی دستیابی پر اثر انداز ہو۔
رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ شدید گرمی صرف ایک عارضی موسم نہیں بلکہ صحت اور معیشت پر دوررس اثرات پیدا کرنے والا مشکل مسئلہ بن چکی ہے۔




