گلگت بلتستان کی چار خواتین نے سپینٹک کی چوٹی سر کر لی

گلگت بلتستان کی چار خاتون کوہ پیماؤں نے اسپینٹک (7,027 میٹر) بغیر اعلیٰ بلندی کے سامان بردار مدد کے سر کی؛ ریسکیو ٹیمیں ڈاکٹر اسما مشتاق کے جسم کی بازیابی کے لیے موسمی رکاوٹوں سے نبردآزما ہیں۔

الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق گلگت بلتستان کی چار خاتون کوہ پیماؤں (شمعہ باقر، سمنہ رحیم، زونی اسلم اور زیبہ بتول) شیگری نے 7,027 میٹر بلند سپینٹک چوٹی بغیر اعلیٰ بلندی کے سامان بردار امداد کے سر کی اور محفوظ طور پر سکردو واپس پہنچ گئیں،

گلگت بلتستان کی چار خاتون کوہ پیماؤں نے مشکل موسمی حالات کے با وجود سپینٹک کی چوٹی سر کی جبکہ اِسی مہم میں کینسر کے خلاف جنگ لڑنے والی رومانیہ کی کوہ پیما الیگزینڈرا ویسان بھی شمل تھیں اور وہ بھی محفوظ طور پر واپس لوٹ آئیں۔ پنجاب کے کوہ پیما ایان عدیل نے بھی ساتھیوں کی معاونت سے اپنا ساز و سامان خود اُٹھاتے ہوئے سپینٹک کو سر کیا۔

لاہور کی بسمہ حسن البتہ چوٹی سے قریباً 250 میٹر نیچے طبی مسئلے کے باعث واپس لوٹ گئیں۔ مہم کے دوران موسمی حالات انتہائی خراب رہے اور ریسکیو ٹیموں کو بھی شدید بارش اور برف باری کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے ڈاکٹر اسماء مشتاق کا انتقال چوٹی سے اُترتے وقت ہوا اور اُن کا جسم ابھی کیمپ 3 پر موجود ہے۔ الپائن کلب کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے جسم بازیابی کے لیے کوششیں کیں مگر موسمیاتی بگاڑ کے باعث محدود کامیابی ہوئی۔ چھ رُکنی ٹیم نے کیمپ 2 تک رسائی حاصل کی تاہم اُسے بھی موسمی حالات خراب ہونے کی وجہ سے واپس لوٹنا پڑا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ریسکیو اور بازیابی کی کوششیں موسمی حالات بہتر ہونے پر دوبارہ شروع کی جائیں گی۔ الپائن کلب نے تمام محفوظ واپسی کرنے والوں اور طبی امداد کی ضرورت رکھنے والوں کے لیے مقامی انتظامات کے تسلسل کی بھی اطلاع دی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1514