اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے کی کمیٹی (سی ای آر ڈی) نے منگل کو جاری رپورٹ میں بھارت میں دلت، شیڈولڈ ٹرائبز، شیڈولڈ کاسٹس اور دیگر نسلی و مذہبی اقلیتوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ماورائے عدالت ہلاکتوں، بدسلوکی اور تشدد کے بڑھتے ہوئے الزامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے کی کمیٹی (سی ای آر ڈی) نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ بھارت میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جانب سے مختلف نسلی، مذہبی اور سماجی طبقات کے خلاف بڑے پیمانے پر پرتشدد کارروائیاں سامنے آئیں ہیں۔ کمیٹی نے ان خلاف ورزیوں میں نسلی بنیادوں پر تشدد، طاقت کا غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال، ماورائے عدالت ہلاکتیں، قانونی کارروائی کے بغیر طویل حراست، جسمانی تشدد، بدسلوکی اور جنسی تشدد کے الزامات شامل قرار دیے۔
رپورٹ میں خاص طور پر شیڈولڈ ٹرائبز، شیڈولڈ کاسٹس اور دلت برادریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے بنگالی بولنے والے مسلمانوں، روہنگیا، تارکین وطن اور پناہ کے متلاشی افراد کے خلاف بھی خصوصی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ان گروہوں پر حالیہ عرصے میں قانون نافذ کرنے والوں کی کارروائیاں بڑھیں ہیں۔
سی ای آر ڈی نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے شناختی دستاویزات چیک کرنے کے دوران مبینہ طور پر نسلی پروفائلنگ سے بعض افراد کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر گرفتار یا حراست میں لیا گیا، اور متعدد معاملات میں تشدد اور بدسلوکی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ کمیٹی نے ایسے افراد کو جبری طور پر ملک بدر کرنے یا زبردستی واپس بھیجے جانے کے اقدام پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ طور پر بین الاقوامی تحفظ درکار افراد کی ملک بدری سے گریز کیا جائے۔
رپورٹ میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام الزامات کی مؤثر، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ کمیٹی نے امتیازی سلوک، نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف فوری کارروائی کرنے پر بھی زور دیا اور اجتماعی ملک بدری سے خبردار کیا۔
سی ای آر ڈی، 18 آزاد ماہرین پر مشتمل اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی ہے جو نسلی امتیاز کی تمام اقسام کے خاتمے کے بین الاقوامی کنونشن پر عمل درآمد کو مانیٹر کرتی ہے۔ بھارت کا اس کمیٹی کے سامنے رواں ماہ جائزہ لیا گیا، جو 2007 کے بعد پہلی مرتبہ ہوا۔
بھارت نے اپنی جانب سے ردعمل میں اپنے کثیرالثقافتی اور متنوع معاشرے، آئینی و قانونی تحفظات اور تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق و مواقع کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ سی ای آر ڈی کی سفارشات قانونی طور پر لازم نہیں ہوتیں، تاہم انسانی حقوق کے تناظر میں یہ کسی ملک کی بین الاقوامی ساکھ پر اہم اثر ڈال سکتی ہیں۔




