پرتگالیوں نے آبنائے ہرمز اور اس کے گرد بندرگاہوں پر تجارت اور نقل و حمل کو کنٹرول کرنے کے لیے ’’کارتاز‘‘ نامی اجازت نامے، کسٹمز اور خراج کا نظام نافذ کیا، جس کی مثالیں گوا کی ’کارتاز رجسٹر‘ میں دسمبر 1602ء کے اندراج سے ملتی ہیں؛ مورخین اس نظام کو خطے میں پرتگالی حکمرانی کا کلیدی حصہ قرار دیتے ہیں۔
گوا کی تاریخی آرکائیوز میں محفوظ ’کارتاز رجسٹر‘ میں دسمبر 1602ء کا ایک اندراج ملتا ہے جس میں ایک تاجر نے اپنے جہاز کو چاولوں کی کھیپ کے ساتھ ہرمز روانہ کرنے کے لیے پرتگالی کارتاز حاصل کرنے کی درخواست درج کروائی۔ گوا یونیورسٹی کے اساتذہ ناگیندرا راؤ اور پی کے سودرشن کی تحقیق کے مطابق کارتاز عام طور پر ایک سال کے لیے موثر ہوتا تھا اور اس کی فیس منزل اور سفر کی نوعیت کے مطابق مقرر کی جاتی تھی۔
ناگیندرا راؤ نے بین الاقوامی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا : ’پرتگالی کارتاز کے لیے فیس وصول کرتے تھے لیکن درحقیقت یہ ایک قسم کا اجازت نامہ تھا جو تاجروں کو بحرِ ہند میں اپنا سامان منتقل کرنے کا حق دیتا تھا اور اُنہیں پرتگالی بحری بیڑوں یا ان کے حملوں کے خوف کے بغیر سفر کرنے کی ضمانت فراہم کرتا تھا۔‘
اِس موضوع پر بحث حالیہ ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی تجویز کے بعد پھر سے زور پکڑ گئی۔ آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے سربراہ سنجے جوشی نے کارتاز کو ’جبری بحری حکمرانی‘ کی ابتدائی مثال قرار دیا اور لکھا کہ پرتگالیوں نے ایشیاء میں براہِ راست علاقوں پر قبضے کے بجائے اہم گزرگاہوں جیسے ہرمز، ملاکا اور عدن پر کنٹرول کے ذریعے حکمرانی قائم کی۔
تاہم بحرِ ہند کے ماہر پروفیسر سنجے سبرامنیم (یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس) کا کہنا ہے کہ کارتاز محض آبنائے سے گزرنے کا محصول نہیں تھا۔ اُن کا ہہنا تھا کہا: ’کارتاز، یا جہاز رانی کا اجازت نامہ، دراصل جہازوں کی آمدورفت اور بعض اشیا، مثلاً کالی مرچ، مصالحہ جات، شورہ اور غلاموں کی تجارت پر کنٹرول قائم کرنے کی ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ تھا، نہ کہ کسی آبی گزرگاہ سے گزرنے پر عائد کیا جانے والا محصول۔‘
محققین بتاتے ہیں کہ پرتگالیوں کی آمد سے پہلے بھی ہرمز ایک اہم تجارتی مرکز تھا جہاں مختلف قسم کی کسٹمز ڈیوٹیاں اور علاقائی خراج رائج تھے۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق ویلم فلور لکھتے ہیں کہ ہرمز کی خوشحالی اس کی بندرگاہی اہمیت اور تجارتی روابط کا نتیجہ تھی، اور سیاحوں جیسے ابنِ بطوطہ اور عبدالرزاق سمرقندی نے وہاں کی بین الاقوامی تجارت کا ذکر کیا۔
ورچوئل انسائیکلوپیڈیا آف پرتگالی ایکسپنشن کے مطابق ہرمز کے حکمران نے جنگ کے بعد پرتگالیوں کو قلعہ تعمیر کی اجازت دی اور سالانہ 15 ہزار زرافین خراج ادا کرنے کا وعدہ کیا؛ افونسو دی البوکرک نے فروری 1508ء میں جزیرہ عارضی طور پر چھوڑا لیکن مارچ 1515ء میں بڑی فوجی قوت کے ساتھ واپس آ کر پرتگالی اقتدار مضبوط کیا، البتہ مقامی حکومت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔




