اسلام آباد (بیورو رپورٹ) آل پاکستان گُڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے وزارتِ داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے طے شدہ لانگ مارچ سے قبل ضبط کیے گئے کنٹینر فوری چھوڑے جائیں، ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ لگ بھگ 100 کنٹینر خصوصاً سِنگجانی اور ترنول سے پکڑی گئے ہیں اور اِنہیںسیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چودھری نے ایک بیان میں کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں مختلف علاقوں سے کنٹینر اور کنٹینر گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں جن میں سے زیادہ تر سِنگجانی اور ترنول سے ضبط کیے گئے۔
ایسوسی ایشن کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ ضبط شدہ کنٹینروں کو ممکنہ طور پر 27 ستمبر کو متوقع احتجاج کے دوران سڑکیں بند کرنے کے لیے رکھا جائے گا جو غیر منصفانہ ہے۔
اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ وزارتِ داخلہ یا انتظامیہ خالی کنٹینر کرایہ پر لے کر استعمال کرے، اِنہیں سیاسی یا سکیورٹی مقاصد کے لیے جبراً استعمال نہ کیا جائے تاکہ نجی کنٹینر مالکان کا استحصال نہ ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بعض ضبط شدہ گاڑیاں سنسان جگہوں پر کھڑی کی گئی ہیں جبکہ کچھ کنٹینروں کو متعلقہ گاڑیوں سے اُتار لیا گیا ہے جس سے مالکان کو مالی نقصانات اور کاروباری مشکلات کا سامنا ہے۔
ایسوسی ایشن نے بتایا کہ انہیں بعض مال برداروں کی شکایات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق کچھ ضبط شدہ گاڑیاں اور کنٹینرز پیسے دینے کے بعد رہا کیے گئے جبکہ کئی اب بھی پولیس تحویل میں ہیں۔ اُنہوں نے اِس معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔
اُنہوں نے واضح کیا کہ ٹرانسپورٹروں کی طرف سے ضبطگی کے خلاف احتجاج ذاتی سیاسی وابستگی نہیں سمجھا جانا چاہئے کیونکہ یہ گاڑیاں پولیس کے سکیورٹی یا حفاظتی مقاصد کے لیے نہیں بلکہ تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کے لیے ہیں۔
ایسوسی ایشن نے حکومت کو خبردار کیا کہ گاڑیاں جبراً سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے ‘‘ریاستی جبر‘‘ کا تاثر پیدا ہوتا ہے اور اِس قسم کے اقدام سے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو نقصان پہنچے گا۔




