گُل پلازہ کے تاجروں نے سندھ حکومت کو سات روز کا الٹی میٹم دے دیا

گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں نے آٹھ ماہ بعد بھی ملبہ ہٹائے نہ جانے اور مرمت نہ ہونے پر سندھ حکومت کو سات روزہ الٹی میٹم دیتے ہوئے ایم اے جناح روڈ پر دھرنا دینے کی دھمکی دی۔

کراچی (سٹاف رپورٹر) گُل پلازہ کے متاثرہ تاجروں نے کہا ہے کہ آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود عمارت کا ملبہ صاف کیا گیا اور نہ ہی تعمیر نو شروع ہوئی، سندھ حکومت کو مرمت، معاوضے اور امداد کے لیے سات روزہ الٹی میٹم دیتے ہیں، بات نہ سُنی گئی تو ایم اے جناح روڈ پر دھرنا دیں گے۔

گُل پلازہ کے تاجروں نے احتجاجی کیمپ سے اعلان کیا کہ آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود پلازہ کا ملبہ ہٹایا نہیں گیا اور تعمیر نو کا کوئی منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ گُل پلازہ اونرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عارف قادری کا کہنا تھا کہ قریباً 850 تاجروں بشمول 100 سے زائد خواتین نے اپنی دُکانیں کھو دیں اور کم و بیش 1,200 خاندان غیر یقینی معاشی مستقبل کا سامنا کر رہے ہیں۔

عارف قادری کا مزید کہنا تھا سینکڑوں متاثرہ تاجروں کو نہ تو ریلیف ملا ہے اور نہ ہی کوئی معاوضہ، حکومت نے کرایہ داروں کو معاوضہ دیا ہے لیکن اصل دکانداروں کو کچھ نہیں ملا۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ ملبہ ہٹایا جائے، تعمیر نو کے منصوبے کا فوری اعلان کیا جائے اور متاثرہ تاجروں کو مالی امداد دی جائے۔

قادری نے خبردار کیا کہ اگر حکومت سات دن میں اُن کے مطالبات پورے نہ کرے تو تاجروں کی جانب سے ایم اے جناح روڈ پر طویل دھرنا دیا جائے گا۔ تجارتی رہنما عبدالرؤف ابراہیم نے بھی ممکنہ طویل احتجاج اور ایم اے جناح روڈ بند کیے جانے کی وارننگ کے علاوہ معاوضے کی تقسیم کا آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ خود متاثرین کی شکایات سنیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر آصف سخی نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے بعد سندھ حکومت نے 4.5 ارب روپے بطور معاوضہ تقسیم کیے لیکن دکانداروں کو اُن کا حصہ نہیں ملا۔ اُن کا کہنا تھا کہ معاملہ وفاقی سطح پر اٹھانا پڑے گا۔

واضح رہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران چارج شیٹ کی منظوری اور سرکاری اداروں کو نامزد کرنے کا مسئلہ طے کرنے کے بعد عدالت نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کے لیے دفاعی وکیل کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کر دی۔ سماعت میں استغاثہ نے ایک متعلقہ فرد پر سنگین غفلت کا الزام عائد کیا جبکہ وکیلِ دفاع جاوید میر نے تحقیقات میں حکومتی اداروں کے لیے ’صاف چِٹ‘ دیے جانے پر سوال اُٹھائے اور کچھ شہادتوں کے اندراج نہ ہونے پر اعتراض کیا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1514