حکومت نے اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) کے تعاون سے ای پنشن پورٹل متعارف کرادیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین کی پنشن سے متعلق کارروائیاں ڈیجیٹل کی جائیں اور ریٹائرمنٹ کے مقدمات کے نمٹانے کا وقت مہینوں کی بجائے چند دنوں تک محدود ہوجائے۔
حکومت نے اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) کے تعاون سے نیا ای پنشن پورٹل لانچ کیا ہے جس کا مقصد سرکاری ملازمین اور پنشن حاصل کرنے والوں کے پنشن کیسز کو آن لائن پروسیس کر کے وقت اور محنت میں واضح کمی لانا ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق پورٹل کے ذریعے پنشن کیسز کی رفتار بڑھا کر انہیں مہینوں کی بجائے دنوں میں نمٹایا جا سکے گا اور درخواست گزار اپنے کیس کی پیش رفت آن لائن ٹریک کر سکیں گے۔
نئے نظام میں پنشن کی ادائیگیاں مخصوص نیشنل بینک کی شاخوں تک محدود رکھنے کے بجائے تجارتی بینک کھاتوں میں براہِ راست منتقل کی جا سکیں گی۔ رجسٹرڈ موبائل نمبروں پر جب پنشن جاری ہو یا کسی کٹوتی کی جائے تو ایس ایم ایس انتباہ بھی بھیجا جائے گا تاکہ پنشن حاصل کرنے والے بروقت مطلع رہیں۔
حکومت نے پنشنرز کے لیے بایومیٹرک تصدیق کا نفاذ بھی کیا ہے۔ اب بینک میں سال میں دو بار زندگی کا سرٹیفیکیٹ جمع کرانے کی بجائے ہر چھ ماہ بعد فنگر پرنٹ آتھنٹیکیشن کے ذریعے بینک برانچ یا بایومیٹرک فعال اے ٹی ایم پر تصدیق پوری کی جا سکے گی۔ حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ موبائل ایپلیکیشنز پر کام جاری ہے جو ممکنہ طور پر گھر بیٹھے موبائل فون کیمرہ کے ذریعے چہرے یا فنگر پرنٹ کے ذریعے تصدیق کی سہولت فراہم کریں گی۔
ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر متعین مدت میں مطلوبہ بایومیٹرک تصدیق مکمل نہ ہوئی تو متعلقہ پنشن اکاؤنٹ عارضی طور پر معطل کیا جا سکتا ہے اور کامیاب تصدیق کے بعد اسے دوبارہ فعال کیا جائے گا۔
آن لائن پنشن سسٹم میں رجسٹریشن کے لیے ملازم کا ڈیٹا پہلے اس کے محکمے کی طرف سے پورٹل میں اپ لوڈ ہونا ضروری ہے۔ مطلوبہ معلومات میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی)، ذاتی نمبر اور متحرک موبائل فون نمبر شامل ہیں۔ ڈیٹا انٹری مکمل ہونے کے بعد ملازم کو ایک منفرد پنشن آئی ڈی جاری کی جاتی ہے جو پنشن خدمات تک رسائی اور کیس کی پیش رفت ٹریک کرنے میں کام آئے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے سرکاری پنشن سسٹم میں شفافیت، رفتار اور سہولت میں اضافہ ہوگا، جبکہ پنشن حاصل کرنے والوں کی بینکنگ سہولیات اور آن لائن رسائی میں بہتری آئے گی۔



