وفاقی حکومت اور جماعتِ اسلامی پٹرولیم لیوی کم کرنے کے لیے ماہر کمیٹیاں قائم کرنے پر متفق

وفاقی حکومت اور جماعتِ اسلامی نے لاہور میں پٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے ماہر کمیٹیاں قائم کرنے پر اتفاق کیا؛ کمیٹیاں لیوی کم کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کی تجاویز پیش کریں گی۔

جمعرات کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں وفاقی حکومت اور جماعتِ اسلامی پاکستان (جے آئی) نے پٹرولیم لیوی میں کمی اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے ماہر کمیٹیاں قائم کرنے پر اتفاق کیا، یہ فیصلہ جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے مل کر اعلان کیا۔

وفاقی حکومت اور جماعتِ اسلامی پاکستان (جے آئی) نے پٹرولیم لیوی میں ممکنہ کمی کے لیے ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں بنانے پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد ایندھن پر عائد لیوی کم کرنے کے طریقے تجویز کر کے عوام کو فوری ریلیف پہنچانا بتایا گیا۔

یہ اعلان لاہور میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قائم کی جانے والی کمیٹیاں پٹرولیم لیوی میں کمی کے عملی اور تکنیکی سفارشات تیار کریں گی اور عوامی مفاد کے پیشِ نظر تجاویز پیش کریں گی۔

سرکاری اور مذہبی سیاسی نمائندوں کے اس بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کمیٹیوں میں کون کون سے ادارے یا ماہر شامل ہوں گے، یا کب تک وہ اپنی تجاویز پیش کریں گی۔ تاہم اعلان کے مطابق یہ کمیٹیاں لیوی میں کمی کے راستے تلاش کریں گی تاکہ ایندھن کی قیمتوں پر پڑنے والے بوجھ میں کمی ہو اور عوامی اخراجات میں ریلیف مل سکے۔

ماہرین اور سیاسی حلقوں میں پٹرولیم لیوی کو ایندھن کی قیمتوں کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے، اور اس پر بحث طویل عرصے سے جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے ماہر کمیٹیوں کے قیام کا مطلب یہ ہے کہ پالیسی سطح پر لیوی کے دائرہ کار، شرح اور ممکنہ متبادل اقدامات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

حالیہ برسوں میں ایندھن کی عالمی قیمتوں اور ملکی مالیاتی ضروریات کے توازن نے مقامی ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے؛ اس پس منظر میں وفاقی حکومت اور جماعتِ اسلامی کا اتفاق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پٹرولیم لیوی پر پالیسی نقطۂ نظر میں تبدیلی یا ریلیف کے امکانات زیرِ غور ہیں۔

مزید تفصیلات، کمیٹیوں کے اراکین اور ان کے کام کی مدت کے بارے میں فی الوقت تاحال حتمی معلومات جاری نہیں کی گئیں؛ متعلقہ فریقین سے مزید وضاحت آنے پر سرکاری اعلان متوقع ہوگا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516