گوجرانوالہ میں دلچسپ مقدمہ درج، آسٹریلوی ٹرانسجینڈر سے جعلی نکاح کر کے چار کروڑ روپے کا فراڈ

گوجرانوالہ پولیس نے ایک آسٹریلیائی ٹرانسجینڈر کی شکایت پر عثمان اور اس کے والد کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا؛ الزام ہے کہ جعلی نکاح کے ذریعے روپے 40 ملین کا فراڈ کیا گیا۔

گوجرانوالہ میں پولیس نے ایک دلچسپ مقدمہ درج کیا جس کے مطابق آسٹریلیا میں پیدا ہونے والے ایک ٹرانسجینڈر کی شکایت پر عثمان اور اُس کے والد قاسم نے جعلی نکاح اور بینک ٹرانزیکشنز کے ذریعے روپے چار کروڑ روہے کا فراڈ کیا۔

پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق گوجرانوالہ کے لاڈھیوالہ وڑائچ تھانے میں درج کی گئی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں متاثرہ ٹرانسجینڈر نے بتایا کہ ملزم عثمان نے 2024ء میں ٹک ٹاک کے ذریعے اُس ے رابطہ قائم کیا۔ متاثرہ نے الزام لگایا کہ دونوں کے درمیان تعلق قائم ہوا اور وہ دو بار پاکستان بھی آیا۔

شکایت کے مطابق عثمان نے ایک جعلی نکاح نامہ تیار کرایا اور اُسے یونین کونسل نمبر 39 میں رجسٹر کروایا۔ متاثرہ نے کہا کہ مختلف ٹرانزیکشنوں کے ذریعے قریباً چار کروڑ روپے اِس کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے جو بعد میں عثمان کے اکاؤنٹ میں گئے۔

متاثرہ نے یہ لازام بھی لگایا کہ جب وہ واپس آسٹریلیا جانے کی کوشش کر رہا تھا تو عثمان اور اُس کے اہل خانہ نے اُسے محصور کر کے رہائی کے عوض مزید رقم کا مطالبہ کیا جبکہ بعض اوقات آسٹریلوی ویزے کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا۔ ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ ٹرانسجینڈر کسی طرح سے یکم جون کو فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور لاہور پہنچ گیا جہاں اُس نے پولیس سے رابطہ کیا۔

پولیس نے ایف آئی آر کے بعد عثمان اور اُس کے والد قاسم کو حراست میں لے لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ تفتیشی حکام نے واضح کیا کہ عدالت میں الزامات کی صداقت ابھی ثابت نہیں ہوئی۔ مقدمے کی مزید تفصیلات اور تفتیشی نتائج بعد میں سامنے آئیں گے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515