وفاقی وزارت صحت نے اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں کے انتظام اور کارکردگی کی مانیٹرنگ، عوامی شکایات اور انتظامی امور کو ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزارت نے اس مقصد کے لیے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی سے تعاون لینے کا عندیہ دیا۔
وزارتِ وفاقی صحت نے حکومتی اسپتالوں کے انتظامی ڈھانچے کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مضبوط بنانے کے لیے ایک ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام متعارف کرانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ منصوبے کے تحت اسپتالوں کی کارکردگی، عوامی شکایات اور انتظامی امور کی نگرانی آن لائن بنیادوں پر کی جائے گی۔
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر سہیل منیر سے ملاقات میں اس حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا اور اتھارٹی کی مدد طلب کی گئی، حکام نے بتایا کہ ابتدائی مذاکرات اور منصوبہ بندی جاری ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تیاریاں جاری ہیں تاکہ اسپتالوں کے آپریشنز اور انتظامی فرائض کو مرحلہ وار ڈیجیٹل سسٹم میں منتقل کیا جائے۔ منصوبے میں شکایات کے اندراج، ریگسٹریشن، مانیٹرنگ اور حل کے عمل کو بہتر کرنے کے لیے اے آئی (اے آئی) پر مبنی شکایت مینجمنٹ سسٹم بھی شامل ہے۔
حکام نے بتایا کہ ممکنہ طور پر اے آئی ایجنٹس شہریوں کی کالز وصول کر کے ان پر کارروائی کریں گے اور شکایات کی ترجیحات، رہنمائی اور ابتدائی حل کے عمل کو خودکار کریں گے، جبکہ پیچیدہ معاملات انسانی عملے کو ریفر کیے جائیں گے۔
وزارت نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سرکاری اسپتالوں کی کارکردگی میں شفافیت لانا، شکایات کے ازالے میں رفتار پیدا کرنا اور انتظامی خامیوں کی بروقت نشاندہی کرنا ہے۔ عہدیداروں نے مزید کہا کہ سخت اور مؤثر اقدامات بھی کیے جائیں گے تاکہ مجموعی طور پر اسپتالوں کے نظام میں بہتری لائی جا سکے۔
ماخذ نے نفاذ کے ٹائم لائن، بجٹ یا پائلٹ پروجیکٹس کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم نہیں کیں۔ نہ ہی بتایا گیا کہ اس منصوبے کو دوسرے شہروں یا صوبوں تک کیسے اور کب توسیع دی جائے گی۔ وزارت اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی دونوں نے آئندہ مراحل اور عملدرآمد کے شیڈول کے بارے میں مزید تفصیلات جلد فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔



