ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق پاکستان میں جولائی 2026 میں رہائشی قرضے ریکارڈ سطح 286 بلین روپے تک پہنچ گئے، جس کی وجہ حکومت کی ‘میرا گھر میرا آشیانہ’ اسکیم کے تحت سبسڈی شدہ رہائشی قرضوں کی بڑھتی ہوئی مانگ بتائی گئی ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا ہے کہ جولائی 2026 میں پاکستان میں رہائشی قرضے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے اور مجموعی مقدار 286 بلین روپے ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ اضافہ بنیادی طور پر حکومت کی ‘میرا گھر میرا آشیانہ’ اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی سبسڈی شدہ رہائشی مالی معاونت کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بتایا کہ اسکیم کی بدولت گھر خریدنے والوں کے لیے قرضے کی افورڈیبلٹی بہتر ہوئی ہے، جس سے ہاؤسنگ فنانسنگ کے لیے درخواستیں بڑھیں۔
ادارے نے یہ بھی کہا کہ رہائشی قرضوں میں یہ اضافہ مورٹگیج یعنی گھریلو رہائشی قرضوں کی مانگ میں مضبوطی کی نشاندہی کرتا ہے اور پاکستان میں رسمی رہائشی فنانسنگ کے محدود ہونے کے باوجود مورٹگیج رسائی میں اضافہ ممکن ہے۔
ماہرین کے مطابق اسی رجحان سے بینکنگ شعبے میں ہاؤسنگ فنانسنگ کی نمو میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ زیادہ قرضہ خواہوں کو افورڈیبل رہائشی قرضے دستیاب ہو رہے ہیں۔
پروپیکیجنی کے ذریعہ شائع ہونے والی اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اسکیم کی بڑھتی ہوئی قبولیت مستقبل میں رہائشی فنانسنگ کے دائرے کو وسیع کر سکتی ہے، البتہ رپورٹ میں مزید تفصیلی اعداد و شمار یا طویل مدتی پیشگوئیاں شامل نہیں کی گئیں۔




