ہنزہ (سٹاف رپورٹر) ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ چند روز قبل علی آباد میں سیل کیے گئے ہوٹل کی انکوائری میں منشیات کے استعمال کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے، مگر این او سی کی خلاف ورزی دیکھی گئی تھی اور بعد ازاں ہوٹل کو ڈی سیل کر دیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ ہنزہ نے چند روز قبل علی آباد میں سیل کیے گئے ایک نجی ہوٹل کی تفتیش کے نتائج جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکوائری کے دوران ہوٹل میں منشیات کے استعمال یا اس نوعیت کی کسی دوسری خلاف ورزی کے شواہد ثابت نہیں ہوئے۔ انتظامیہ نے ساتھ ہی کہا ہے کہ این او سی کے مطابق دیے گئے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی دیکھی گئی تھی۔
ضلع انتظامیہ نے بیان میں بتایا کہ سیل کیے جانے کے بعد معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے ہوٹل کا معائنہ کیا۔ تحقیق کے نتیجے میں منشیات کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آئے، تاہم ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس لیا گیا۔
ہوٹل انتظامیہ اور ہوٹل ایسوسی ایشن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ چھ اکتوبر کو ہوٹل کی چھت پر 40، 50 افراد پر مشتمل ایک نجی تقریب منعقد ہوئی تھی اور اس کے لیے تین اکتوبر کو انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت لی گئی تھی۔ ایمبیئنس ہوٹل اینڈ ریزورٹ ہنزہ کے جنرل منیجر ڈیب سعید کھوکھر نے کہا کہ تقریب میں کچھ غیر ملکی سیاح بھی موجود تھے اور اس میں عوامی تشہیر یا دعوت نہیں دی گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ تقریب کے بعد کچھ شرکا نے ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں منشیات کے دعوے سامنے آئے، جس پر انتظامیہ نے حرکت میں آ کر ہوٹل کے مرکزی داخلی راستے پر سیل کے سٹیکرز لگائے۔ بعد ازاں ضلعی انتظامیہ نے ڈپٹی کمشنر آفس میں ملاقاتیں کر کے متعلقہ فریقین سے بات چیت کی اور مختلف اداروں نے ہوٹل کا معائنہ کیا۔
ہنزہ ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر منظور حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ہوٹل کو ایسوسی ایشن کو اعتماد میں لیے بغیر اور مکمل تحقیقات سے پہلے سیل نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انتظامیہ کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق مستقبل میں ہوٹل انتظامیہ سے توقع کی گئی ہے کہ وہ مقامی ثقافت، روایات اور ضابطۂ اخلاق کا خیال رکھیں گے۔
بی بی سی نے ڈپٹی کمشنر ہنزہ اور اسسٹنٹ کمشنر سے رابطہ کیا مگر ان کی طرف سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔




