ویب ڈیسک) انڈیا نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرانے کے لیے براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے میونخ سکیورٹی کانفرنس میں پہلی بار اسے عوامی سطح پر تسلیم کیا۔
انڈیا نے روس اور یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے براہِ راست بات چیت اور ثالثی کی پیشکش کی ہے، جسے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے میونخ سکیورٹی کانفرنس میں عوامی طور پر قبول کیا۔ بی بی سی اردو کے مطابق شنکر نے کہا کہ نئی دہلی کی کوششیں بنیادی طور پر بحیرہ اسود میں جہاز رانی کے تحفظ اور اناج و توانائی کی برآمدات کو برقرار رکھنے پر مرکوز ہیں۔
مضمون میں ذکر ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے حالیہ گفتگو میں مودی کے پاس ‘بہترین خیالات’ ہونے کی بات بھی کی، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نئی دہلی نے چار سال سے زائد عرصے سے تنازع کے حل میں سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سائبیہا نے بیانات میں کہا تھا کہ کیئو کو جنگ بندی کے لیے چار ممالک کی تجاویز موصول ہوئی ہیں اور ان میں انڈیا کی تجویز ‘سب سے زیادہ جامع’ قرار پائی۔
بی بی سی سے بات کرنے والے ماہرین نے انڈیا کی پیشکش کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر محمد سہراب نے کہا کہ انڈیا کے پاس ثالثی کی تاریخ ہے مگر موجودہ دور میں اس کا کردار ‘کمپرومائزڈ’ محسوس ہوتا ہے اور پیشکش کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ فریقین سمجھوتے کے لیے کتنے تیار ہوں۔ سابق بھارتی سفیر انیل تریگونایت نے بھی کہا کہ انڈیا اس معاملے میں عالمی سطح پر بڑا کردار تلاش نہیں کر رہا بلکہ جنگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے امن چاہتا ہے۔
ماضی میں ترکی، چین، سعودی عرب، ویٹیکن اور دیگر نے بھی مذاکرات کی کوششیں کیں لیکن مستقل امن معاہدہ نہیں ہوا۔ بی بی سی اردو کا مضمون نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اگرچہ انڈیا کے پاس دونوں فریقوں کے ساتھ روابط ہیں، مگر ثالثی کی کامیابی کا دارومدار زیادہ تر بنیادی فریقین کی سیاسی آمادگی پر ہوگا، نہ کہ صرف ثالث کی پوزیشن پر۔




