88% بھارتی ڈاکٹروں کا خیال: نیکوٹین براہِ راست کینسر کا سبب بنتی ہے

سرمو کے سروے میں بھارت کے 88% ڈاکٹروں نے نیکوٹین کو براہِ راست پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب مانا، ماہرین کہتے ہیں کہ تمباکو دھواں اور نیکوٹین میں فرق واضح ہونا ضروری ہے۔

سرمو کے ایک بین الاقوامی سروے میں بھارت کے 88% لائسنس یافتہ ڈاکٹروں نے کہا کہ نیکوٹین خود براہِ راست پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب بنتی ہے؛ 87% نے اسے آرتھروسکلروسیس اور 86% نے اسے دائمی رکاوٹِ پھیپھڑوں کی بیماری (سی او پی ڈی) سے جوڑا۔ سروے 11 ممالک میں طبیبوں کے بیانات پر مبنی ہے۔

ایک بین الاقوامی طبی سروے نے ظاہر کیا ہے کہ بھارت میں اکثریتِ مطلقہ ڈاکٹروں کے درمیان نیکوٹین کے بارے میں بڑی حد تک الجھن پائی جاتی ہے۔ سرمو نے 11 ممالک میں لائسنس یافتہ طبیبوں سے نیکوٹین اور سگریٹ نوشی سے متعلق بیماریوں کے بارے میں سوالات کیے، جن میں بھارت کے جواب دہندگان میں 88% نے نیکوٹین کو براہِ راست پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب قرار دیا۔

اسی سروے میں 87% بھارتی ڈاکٹروں نے نیکوٹین کو آرتھروسکلروسیس (شریانوں کی سختی) سے براہِ راست وابستہ سمجھا، اور 86% اسے دائمی رکاوٹِ پھیپھڑوں کی بیماری (سی او پی ڈی) سے جوڑتے ہیں۔

ماہرینِ صحت واضح کرتے ہیں کہ یہ فرق اہم ہے: نیکوٹین تمباکو میں موجود وہ مادہ ہے جو لت پیدا کرتا ہے اور بعض اوقات دل اور شریانوں پر اثرات مرتب کرسکتا ہے، مگر سگریٹ کا دھواں ہزاروں اضافی کیمیائی مادوں پر مشتمل ہوتا ہے جو زیادہ تر بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ تمباکو نوشی کو کینسر، قلبی امراض اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا واضح سبب تسلیم کیا جاتا ہے؛ تاہم تمام مضر اثرات کو محض نیکوٹین کے ساتھ منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

سرمو کے سروے نے دوسرے ممالک میں بھی ڈاکٹرز کے خیالات میں خامیاں دکھائیں، اگرچہ غلط فہمیوں کی سطح ممالک کے درمیان مختلف تھی۔ رپورٹ نے طبی برادری میں نیکوٹین اور تمباکو دھوئیں کے مابین تمیز کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ پالیسی اور مریضوں کو مشورے زیادہ درست ہوں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1539