مکہ دفاعی معاہدہ: تہران کے تحفظات، اسلام آباد کا امتحان

تازہ ترین رپورٹس میں ایران اور سعودی عرب، پاکستان و ترکیہ کے دفاعی معاہدے کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نمایاں ہے۔ Iran International کی صحافی مریم سینائی کی 9 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، 5 اکتوبر کو معاہدے کے عملی مرحلے میں داخل ہونے کے بعد تہران میں بعض حکام نے یمن میں ممکنہ مداخلت پر خبردار کیا اور پاکستان کے اس کردار پر سوال اٹھائے کہ وہ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کرے اور دوسری طرف واشنگٹن و تہران کے درمیان ثالثی بھی جاری رکھے۔

سعودی دفاعی معاہدہ عملی مرحلے میں، ایران نے پاکستان کے کردار پر سوال اٹھا دیے

ایران نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے سہ فریقی دفاعی معاہدے پر تنقید تیز کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یمن کے تنازع میں بیرونی مداخلت پورے خطے کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ ایران انٹرنیشنل کی مریم سینائی کی رپورٹ کے مطابق، معاہدہ 5 اکتوبر کو عملی مرحلے میں داخل ہوا، جس کے بعد پاکستان اور ترکیہ نے سعودی عرب کی معاونت کے لیے اقدامات شروع کیے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سعودی عرب میں دسیوں ہزار پاکستانی فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی سے متعلق سوال پر کہا کہ تہران نے بھی یہ افواہ سنی ہے اور امید ہے کہ یہ درست نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے معاملے میں مداخلت کے خطے پر ناپسندیدہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی پڑوسی ممالک پر زور دیا کہ وہ خود انحصاری اور حقیقی برادرانہ تعلقات کو ترجیح دیں۔

ایرانی پارلیمان کے بعض ارکان نے معاہدے کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کی شرکت حوثی تحریک کی صلاحیتوں کو ختم نہیں کر سکے گی۔ بعض ایرانی حلقوں نے پاکستان کی ثالثی پر بھی اعتراض کیا، کیونکہ اسلام آباد ایک جانب سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کر رہا ہے اور دوسری جانب تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔

پاکستان کے لیے اصل چیلنج سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق اپنی ذمہ داریوں اور ایران کے ساتھ ہمسایہ تعلقات و ثالثی کے کردار میں توازن قائم رکھنا ہے۔ دوسری جانب، سعودی عرب کو دفاعی مدد فراہم کرنا لازماً یمن میں براہِ راست جنگ میں شمولیت کے مترادف نہیں۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356