ایران نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے میں اسے شامل کرنے کی کوئی باضابطہ دعوت موصول نہیں ہوئی، اور ایک سینئر عہدیدار محسن رضائی نے شرط رکھی ہے کہ تہران کو معاہدے میں ‘شریک بانی’ کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ یہ جھڑپ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ تعلقات اور معاہدے کے دائرۂ کار پر سوالات کھڑے کر رہی ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ‘ہمیں مکہ معاہدے میں شمولیت کی کوئی دعوت موصول نہیں ہوئی’ البتہ اُن کا کہنا تھا کہ علاقائی سلامتی کے حوالے سے تبادلۂ خیال کی تجاویز آئیں۔
اس بیان کا سلسلہ اُس رپورٹ کے بعد شروع ہوا جب ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے 22 اگست کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران صرف اسی صورت مکہ معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے اگر اسے ‘شریک بانی’ (کو فاؤنڈر) تسلیم کیا جائے اور اسے معاہدے کی بنیادی دستاویزات بنانے میں حصہ دیا جائے۔ رضائی نے مزید کہا کہ ایران اور مصر کو ایسے علاقائی انتظامات سے باہر نہیں رکھا جانا چاہیے۔
محسن رضائی نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مناسب نہیں کہ ‘دوست ممالک’ پہلے معاہدہ طے کریں اور بعد میں ایران سے اس کی توثیق یا حمایت کا مطالبہ کریں۔ اُن کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ مکہ معاہدہ خطے میں امریکہ کی کمزور ہوتی پوزیشن کا نتیجہ ہے اور یہ پیش رفت واشنگٹن کے خلا کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔
تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران بغیر شرائط کے شامل ہونا چاہے تو ممکن ہے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کو اعتراض نہ ہو، مگر محسن رضائی کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران معاہدے کے فریم ورک میں بڑی تبدیلیاں چاہتا ہے جو تینوں ممالک کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔
ڈاکٹر عسکری نے کہا کہ تہران شاید معاہدے میں ایسے نکات شامل کروانا چاہے گا جو امریکی تنصیبات یا اڈوں پر تنقید یا پابندیوں کے خلاف ردِعمل کا راستہ کھولیں، اور اگر ایسا ہوا تو معاہدے کو ایک امریکہ مخالف شکل کا تاثر مل سکتا ہے جو شریک ممالک پسند نہیں کریں گے۔
سابق سفارتکار عاقل ندیم نے کہا کہ ایران کی دلچسپی کا ایک سبب امریکہ کی پابندیاں اور معاشی دباؤ بھی ہو سکتے ہیں۔ اُن کے مطابق تہران چاہتا ہے کہ معاہدے کا دائرۂ کار صرف فوجی حملوں تک محدود نہ رہے بلکہ اقتصادی دباؤ اور پابندیوں جیسے اقدامات پر بھی مشترکہ ردِعمل کے امکانات طے کیے جائیں۔
مکہ معاہدے کے تحت شریک ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی حملہ سب پر حملہ سمجھا جائے گا۔ ایران کی جانب سے سامنے آنے والی شرط اور شرائط کے بعد یہ واضح نہیں کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی ایران کی مانگیں قبول کریں گے یا معاہدے کے موجودہ فریم ورک میں رہ کر اپنی حکمتِ عملی برقرار رکھیں گے۔




