یو اے ای نے ایران کے ساتھ تجارتی و مالی لین دین معطل کر دیا، ایران نے میزائل حملوں کی تردید کی

متحدہ عرب امارات نے ایران پر میزائل حملوں کے الزامات کے بعد تہران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالی لین دین 'اگلے نوٹس تک' معطل کر دیے، ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین ’’آئندہ نوٹس‘‘ تک معطل کر دیا ہے جبکہ ایران نے یو اے ای پر میزائل داغنے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ یو اے ای کی وزارتِ دفاع نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران نےاُس کے ملک کی طرف دو بیلسٹک میزائل داغے جن میں سے ایک سمندری حدود کے باہر اور دوسرا ملک کے پانیوں میں گر گیا۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں اعلان کیا کہ تہران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین آئندہ نوٹس تک معطل کر دیے گئے ہیں۔ وزارت نے اِس فیصلے کی وجہ علاقائی کشیدگی اور ’’امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے والے تناؤ‘‘ میں اضافے کو قرار دیا۔

چند گھنٹے قبل متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران نے ملک کی جانب دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ وزارت دفاع نے کہا کہ ان میں سے ایک میزائل متحدہ عرب امارات کے سمندری حدود سے باہر گرا جبکہ دوسرا ملک کے پانیوں کے اندر گرا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اِن الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے یو اے ای پر میزائل حملے نہیں کیے۔

یو اے ای کی جانب سے تجارتی و مالیاتی لین دین معطل کرنے کے اعلان کے بعد خطے میں کشیدگی کے نئے اشارے ملے ہیں جبکہ دوطرفہ سفارتی بیانات کے تبادلے سے تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندیاں آئندہ فیصلے تک لاگو رہیں گی تاہم بیان میں اِس معطلی پر مزید تکنیکی تفصیل یا مخصوص مالیاتی اداروں کے نام فراہم نہیں کیے گئے۔

ابھی تک بین الاقوامی یا علاقائی سطح پر اِس معاملے پر مزید ردِعمل یا ثالثی کے اقدامات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ بی بی سی اردو نے اپنی لائیو کوریج جاری رکھی ہے تاہم بتایا گیا ہے کہ اِس مخصوص صفحے کو مزید اپڈیٹ نہیں کیا جائے گا۔

حالیہ بیانات کے تناظر میں خطے کی صورتِحال کسی بھی وقت بدل سکتی ہے اور اِس معاملے پر مزید اطلاعات آنے پر صورتحال واضح ہو سکے گی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519