ایران کے لیے عراق سے پاکستان تک سخت سرحدی بندشیں

عراق میں ’الشِیب‘ (Al-Sheeb) کی بندش اور پاکستان کی ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کی معطلی، سیکیورٹی، اسمگلنگ، سپلائی چینز اور علاقائی تجارت کے حوالے سے خدشات کو جنم دیتی ہے۔

عراق سے پاکستان تک سرحدی بندشیں؛ سلامتی یا علاقائی تجارت پر دباؤ؟

الشیب، تفتان اور گبد کے راستے بند ہونے سے سرحدی معیشت اور علاقائی روابط پر نئے سوالات

عراق (ویب ڈیسک) خصوصی رپورٹ: عراق نے 21 اکتوبر 2026 کو ایران کے ساتھ واقع الشیب (الشعیب) سرحدی گزرگاہ کو مسافروں، گاڑیوں اور تجارتی ٹرکوں کے لیے تاحکمِ ثانی بند کر دیا۔ عراقی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سرحدی سلامتی کے انتظامات کا ازسرِنو جائزہ لینا ہے۔ رپورٹس میں ممنوعہ اشیا کی اسمگلنگ روکنے اور نگرانی کے آلات نصب کرنے کا امکان بھی بیان کیا گیا ہے۔ یہ گزرگاہ عراق کے صوبے میسان میں واقع ہے اور ایران سے غذائی اشیا، تعمیراتی سامان اور زائرین کی آمدورفت کے لیے اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے بھی ایران کے ساتھ تفتان اور گبد۔رمدان کے راستوں سے تجارتی سرگرمیاں معطل کی ہیں۔ پاکستان کی وزارتِ تجارت کے فیصلے کے بعد حکام نے سکیورٹی خدشات، اسمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی نظام کو مؤثر بنانے کو بنیادی وجوہات قرار دیا۔ ان بندشوں سے مال بردار گاڑیوں، ایل پی جی، چاول، پھلوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی نقل و حرکت متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

تکنیکی پہلو: سرحدی انتظام کیسے مؤثر ہو سکتا ہے؟

جدید سرحدی سلامتی صرف راستے بند کرنے تک محدود نہیں۔ اس میں کارگو اسکینرز، گاڑیوں اور کنٹینرز کی شناخت، الیکٹرانک کسٹمز ریکارڈ، خطرے کی بنیاد پر سامان کی جانچ، نگرانی کے کیمرے اور متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ شامل ہیں۔ ان اقدامات سے ممنوعہ اشیا کی نقل و حرکت محدود اور قانونی تجارت زیادہ شفاف بنائی جا سکتی ہے۔ تاہم، بندش کی مدت غیر ضروری طور پر بڑھنے سے قانونی کاروبار، ٹرانسپورٹ، مقامی روزگار اور سرکاری محصولات متاثر ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے تزویراتی اہمیت

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت بلوچستان کی معیشت، توانائی کی ضروریات اور مقامی منڈیوں کے لیے اہم ہے۔ اگر بندشیں طویل رہتی ہیں تو ایل پی جی اور دیگر ضروری اشیا کی دستیابی، قیمتوں اور سپلائی چین پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ عراق اور ایران کے درمیان تجارت میں خلل بھی علاقائی سطح پر رسد اور کاروباری اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔

نتیجہ: سرحدی سلامتی اور اسمگلنگ کی روک تھام ریاستی ذمہ داری ہے، لیکن پائیدار حکمتِ عملی وہ ہوگی جو مؤثر نگرانی کے ساتھ قانونی تجارت بھی جاری رکھے۔ پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ رابطہ کاری، واضح کسٹمز ضوابط، مشترکہ نگرانی اور بندشوں کے باقاعدہ جائزے علاقائی استحکام اور معاشی مفادات کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356