مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 14 اگست کو اسلام آباد کے اولڈ پریڈ گراؤنڈ (ڈی چوک) میں منعقدہ یومِ آزادی کی پریڈ میں مہمانِ خصوصی کے دیر سے پہنچنے پر چیئرمین سی ڈی اے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ سہیل اشرف اور اسلام آباد کے آئی جی سید علی ناصر رضوی شاہی بگھی میں داخل ہوئے، جس سے سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ تقریب کا آغاز متوقع وقت شام پانچ بجے ہونا تھا مگر پروگرام ایک گھنٹہ بعد شروع ہوا؛ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بگھی ’ناگزیر حالات کے باعث بدقسمتی سے اِن افسران نے استعمال کیا‘۔
اسلام آباد میں ریاستی محفل کے دوران شاہی بگھی پر دو سرکاری اہلکاروں کے بیٹھنے کا منظر مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بحث کا محور بنا۔ سی ڈی اے کے زیرِ اہتمام اس سال کی اسلام آباد سٹی پریڈ کا مقام اولڈ پریڈ گراؤنڈ ڈی چوک تھا۔ پروگرام کی شروعات پانچ بجے متوقع تھی مگر تقریب شام چھ بجے کے بعد شروع ہوئی۔ پریڈ شروع ہونے سے قبل اسلام آباد کے کمشنر (چیئرمین سی ڈی اے) اور آئی جی کا استقبال کیا گیا جو تقریب کے مقام میں شاہی بگھی پر داخل ہوئے۔
اس موقع پر اینکر نے مائیک پر اعلان کیا: ’خواتین و حضرات! آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس وقت پریڈ گراؤنڈ میں اسلام آباد پولیس کے سپہ سالار آئی جی اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے داخل ہو رہے ہیں۔‘ اینکر نے مزید کہا: ’آپ تمام کے میزبان اور اس پروگرام کو انتظام کرنے والے ایک دفعہ بھرپور خراج تحسین، چیئرمین سی ڈی اے اور آئی جی اسلام آباد۔ بھرپور تالیوں میں استقبال کیجیے۔‘ جب بگھی رکی تو آئی جی نے کراؤڈ کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا سلام پیش کیا۔ ان کی اور کمشنر کی آمد کا استقبال ان کے ماتحت افسران ڈپٹی کمشنر عرفان میمن، ڈی آئی جی ہارون جوئیہ اور دیگر نے کیا۔
اینکر نے پھر اعلان کیا کہ ’تمام لوگوں سے تلقین ہے کہ آپ انتظار کریں، ابھی تھوڑی دیر میں چیف گیسٹ آئیں گے، منتظمین ان کو ریسیو کریں گے اور پریڈ کا باقاعدہ آفیشل آغاز ہونے والا ہے۔‘ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق تھے جو تاخیر سے پہنچے اور بظاہر شاہی بگھی انہی کے لیے مختص تھی مگر ان کی انٹری اپنی گاڑی میں ہوئی۔
پریڈ کا باقاعدہ آغاز مغرب کے وقت اسلام آباد پولیس کے دستے کی آمد سے ہوا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس منظر پر سخت تنقید کی۔ ایکس پر طارق ایس عمیر نے لکھا: ’یہ طرز عمل کسی طور پر بھی درست نہیں ہے۔‘ کاروباری شخصیت وہاج سراج نے کہا کہ ’آئی جی پولیس اور چیئرمین سی ڈی اے اسلام آباد دونوں عوام کے ملازم ہیں… یومِ آزادی پر یہ کیسا تضاد ہے۔‘ صحافی ابصار عالم نے اسے ’برطانوی راج‘ جیسا منظر قرار دیا۔
وضاحت دیتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا: ’میں جانتا ہوں کہ جو کچھ ہوا وہ مناسب نہیں تھا۔ لیکن میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ نہ تو آئی جی کی غلطی تھی اور نہ ہی چیف کمشنر اسلام آباد کی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ صدر کی وزیرِ اعظم سے ملاقات کی وجہ سے مہمانِ خصوصی اور وہ خود تاخیر کا شکار ہوئے اور ’ہم نے افسران کو ہدایت دی کہ پروگرام شروع کر دیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ عوام مزید انتظار کریں۔‘ نقوی نے مزید کہا: ’شاہی بگھی مہمانِ خصوصی کے لیے مختص تھی… ناگزیر حالات کے باعث بدقسمتی سے اسے افسران نے استعمال کیا۔




