16 اگست 2026 — ڈارون میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں بنگلہ دیش نے میزبان آسٹریلیا کو نو وکٹوں سے شکست دے کر اپنی تاریخ ساز پہلی ٹیسٹ جیت حاصل کی، جہاں حسن محمود نے مجموعی طور پر نو وکٹیں لے کر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار پایا۔
بنگلہ دیش نے ڈارون کے میدان میں پہلے دن سے میچ پر گرفت مضبوط رکھی اور چوتھے روز آسٹریلیا کی دوسری اننگز 284 رنز پر ختم ہونے کے بعد ایک وکٹ کے نقصان پر 57 رنز کا ہدف آسانی سے حاصل کر لیا۔ یہ بنگلہ دیش کی آسٹریلیا میں پہلی ٹیسٹ جیت ہے، جو اس نے 23 سال بعد یہاں کھیلتے ہوئے حاصل کی۔
میچ کا بہترین کھلاڑی حسن محمود رہے جنھوں نے میچ میں کل نو وکٹیں حاصل کیں۔ انھوں نے پہلی اننگز میں 55 رنز دے کر چھ آسٹریلوی کھلاڑی آؤٹ کیے، جبکہ دوسری اننگز میں تین وکٹیں حاصل کیں۔
آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز 198 پر آل آؤٹ کی جس میں سٹیو سمتھ کے 71 رنز شامل تھے؛ حسن محمود نے اس اننگز میں چھ وکٹیں بٹوریں۔ بنگلہ دیش نے اپنی پہلی اننگز میں 426 رنز بنائے اور 228 رنز کی برتری حاصل کی۔ اس اننگز میں تنزید حسن نے سنچری بنائی جبکہ کپتان نجم الحسین شانتو نے 84 اور مہدی حسن میراز نے 65 رنز بنائے۔ آسٹریلیا کی جانب سے فاسٹ بولر جوس ہیزلوڈ نے بنگلہ دیش کے خلاف چھ وکٹیں حاصل کیں۔
آسٹریلیا نے اپنی دوسری اننگز میں کیمرون گرین کی سنچری کی بدولت مشکل سے برتری حاصل کی، مگر مہدی حسن میراز نے اس اننگز میں پانچ وکٹیں لیں۔ میچ کے دوران آسٹریلیا نے پانچ کیچ ڈراپ کیے جو بنگلہ دیش کی جیت کے امکانات کو بڑھانے کا سبب بنے۔
کپتان شانتو نے میچ کے بعد کہا: ‘میں بہت خوش ہوں۔ خود پر فخر ہے اور جس طرح لڑکوں نے کھیل پیش کیا اس پر بھی فخر ہے۔ ہم نے بہت محنت کی ہے۔’ انھوں نے اس فتح کو ‘تمام فارمیٹس میں بنگلہ دیش کی سب سے بڑی فتح’ قرار دیا اور کہا کہ ٹیم مستقبل میں ‘کچھ خاص’ کرنا چاہتی ہے۔
یہ جیت ایسے سال میں خاص طور پر اہم ہے جب بنگلہ دیش ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کر سکی، جبکہ مارچ کے بعد ٹیم نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ میچ سے پہلے بنگلہ دیش کی فارم مخدوش دکھائی دیتی تھی — صرف ایک ہفتہ قبل وارم اپ میچ میں ٹیم 54 پر آؤٹ ہوئی تھی — تاہم اس میچ میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے توقعات کو غلط ثابت کر دیا۔
میچ کے بعد بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے ویڈیو کال کے ذریعے ٹیم کو مبارکباد دی۔ سابق ویسٹ انڈیز فاسٹ بولر این بشپ اور ہندوستانی اسپنر آر ایشون سمیت متعدد حلقوں نے بنگلہ دیش کی کارکردگی کی تعریف کی۔




