آر سی ڈی شاہراہ: کراچی سے تفتان تک این۔25 اور تین ملکوں کا ادھورا علاقائی خواب

این۔25 کی تاریخ آر سی ڈی کے وسیع تر منصوبے سے جڑی ہے؛ 1964 میں قائم ہونے والی تنظیم نے علاقائی اقتصادی تعاون کے وعدے کیے مگر سرد جنگی سیاست اور علاقائی رکاوٹوں نے ان کے نفاذ کو محدود رکھا۔

پاکستان، ایران اور ترکی نے 21 جولائی 1964 کو ریجنل کوآپریشن فار ڈویلپمنٹ (آر سی ڈی) قائم کیا تاکہ اقتصادی، فنی اور ثقافتی میدانوں میں تعاون بڑھایا جائے؛ اس کا ایک علامتی منصوبہ کراچی، کوئٹہ اور تفتان تک پھیلی این۔25 شاہراہ تھی جو بعد ازاں وسعت کے بعد پاکستان ایکسپریس وے کہلائے گی اور تینوں ممالک کے طویل مدتی تجارتی رابطے کا حصہ بننے کا امید افزا مگر ادھورا منصوبہ رہی۔

این۔25 — آج کی اہم قومی شاہراہ — اپنی تاریخ میں صرف اندرونِ پاکستان کا راستہ نہیں بلکہ 1960 کی دہائی کے علاقائی سیاسی اور اقتصادی تجربے کا بھی حصہ رہی ہے۔ برٹینیکا کے مطابق پاکستان، ایران اور ترکی وہی ممالک تھے جنہوں نے پہلے سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن (سینٹو) میں شمولیت اختیار کی، جس کا مقصد ’مشرقِ وسطیٰ کے اہم تیل پیدا کرنے والے علاقوں میں سوویت یونین کی توسیع پسندانہ پیش قدمی کے خطرے کا مقابلہ کرنا‘ تھا۔

سینٹو سے اختلافات کے باوجود 21 جولائی 1964 کو تینوں ممالک نے آر سی ڈی قائم کر کے علاقائی تعاون کو ایک نیا پلیٹ فارم دینے کی کوشش کی۔ سی۔ گوک تپے اپنی کتاب ’برٹش پالیسی ٹوورڈز ٹرکی‘ میں لکھتے ہیں کہ صدر ایوب خان اور وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستان مغربی طاقتوں کے رویے سے ناراض تھا، جب کہ ترکی کو قبرص کے بحران میں مایوسی ہوئی اور ایران بھی اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ خودمختاری چاہتا تھا۔

زبیدہ حسن کے مطابق ایران نے اسی دور میں سوویت یونین کے ساتھ اقتصادی اور ثقافتی روابط بڑھائے، جبکہ پاکستان نے تیل کی تلاش میں سوویت مدد قبول کی۔ بہجت کمال یشیل بورسا کی برطانوی نیشنل آرکائیوز کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ آر سی ڈی کے قیام کے پیچھے اقتصادی فوائد کے ساتھ سینٹو کی سیاسی اور عسکری حدود سے بے اطمینانی بھی شامل تھی، اس لیے لندن اور واشنگٹن نے اس پر نظر رکھی۔

آر سی ڈی کے بانی ممالک نے اپنے منصوبوں میں تجارت، صنعت، زراعت، معدنیات، تعلیم، صحت، مواصلات، سیاحت، ڈاک، ٹیلی کمیونیکیشن اور شپنگ جیسے متعدد شعبوں میں تعاون متعین کیا۔ تینوں نے آزاد یا نسبتاً آزاد نقل و حرکتِ تجارت، مشترکہ منصوبے، فضائی و بحری روابط اور سڑک و ریلوے کنیکشن کے تصورات پیش کیے۔ مگر علاقائی سیاسی پیچیدگیوں، افغانستان اور انڈونیشیا کی شمولیت نہ ہونے اور اندرونی تنازعات نے ان منصوبوں کو مکمل طور پر عملی جامہ پہنانے میں رکاوٹیں ڈال دیں۔

آیت اللہ روح اللہ خمینی نے 9 ستمبر 1964 میں اپنی تقریر میں بیرونی اثرات کو مسلمانوں میں تقسیم کا سبب قرار دیا اور نومبر 1964 میں جلاوطن کر دیا گیا — ایسے واقعات نے بھی علاقائی سیاست اور آر سی ڈی کے عمل پر اثر ڈالا۔

نتیجتاً، این۔25 کی داستان نہ صرف ایک سڑک کی تعمیر کا بیان ہے بلکہ سرد جنگ کی سیاست، علاقائی مفادات اور اقتصادی توقعات کے درمیان بننے والے ایک ادھورے خواب کی عکاسی بھی ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1527