اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وفاقی دارالحکومت میں مبینہ ویزا فراڈ کے ملزم کو لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں پولیس نے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر لے لیا ہے، جبکہ واقعے کی ایف آئی آر قتل باعث اور مجرمانہ نیت کے تحت درج کی گئی ہے۔
پولیس نے بتایا ہے کہ ملزم پیر کی صبح جوڈیشل مجسٹریٹ زنیرہ ظفر کی عدالت میں چہرہ ڈھانپ کر پیش کیا گیا جہاں تفتیشی حکام نے ابتدائی شواہد کی بنیاد پر مزید تفتیش کے لیے اس کی ضرورت ظاہر کی۔ پولیس نے پہلے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔
بی بی سی اُردو کی رپورٹ کے مطابق لائبہ اعجاز، جو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی 23 سالہ طالبہ اور سکالرشپ ہولڈر تھیں، جمعہ کو اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں واقع ہفتہ وار بازار میں درخت سے لٹکی ہوئی حالت میں ملی تھیں۔ پولیس نے یہ ابتدائی طور پر مبینہ خودکشی قرار دی۔
خاندان کی مدعیت پر درج ایف آئی آر میں الزام ہے کہ ملزم نے بیرونِ ملک تعلیم دلوانے کے نام پر لائبہ اور اس کے اہلخانہ سے رقم بٹوری اور فراہم کردہ ویزا دستاویزات جعلی نکلیں۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ معاملے کے نتیجے میں خاندان پر مالی دباؤ بڑھ گیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ لائبہ شدید ذہنی دباؤ میں تھیں۔
والد کے مطابق لائبہ کی ملاقات ملزم سے تقریباً چھ سے سات ماہ قبل ہوئی تھی اور اس نے خود کو اسلام آباد میں ایک اعلیٰ عہدیدار ظاہر کیا۔ درخواست میں بتایا گیا ہے کہ اس کے بعد بیوقوف بنانے کے لیے مجموعی طور پر لاکھوں روپے ادا کیے گئے، جن میں مختلف رقمیں مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کی گئیں۔ عبادت اور پوسٹ مارٹم کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد میت ورثا کے حوالے کر دی گئی تھی۔
حکام نے بتایا کہ فرانزک ٹیم اور تفتیشی افسران نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے اور ایف آئی اے کی انکوائری بھی جاری ہے۔ ایف آئی اے اسلام آباد ریجن کے ڈائریکٹر نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ واقعے سے متعلق تمام شواہد جمع کیے جا رہے ہیں اور ملزم کے موبائل کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔
قانونی کارروائی اور تفتیش جاری ہے، اور پولیس نے مزید شواہد کی بنیاد پر اگلے بیانات اور ریکارڈ کی روشنی میں کارروائی جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔




