ریاض (ویب ڈیسک) بی بی سی اردو کے مطابق ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہفتے اور اتوار کو ہوئے حوثی حملوں میں مجموعی طور پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے جب کہ اتوار کے حملے میں کم از کم ایک پاکستانی شہری ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہفتے کو بڑے حملے میں 13 افراد ہلاک اور 308 زخمی ہوئے، جس کی ذمہ داری بعد ازاں حوثیوں نے قبول کی۔ اتوار کو اسی ایئرپورٹ کے ٹرمینل کے قریب ایک میزائل نما پروجیکٹائل گرنے سے مسافروں کے ایک ہال میں آگ لگی، اور سعودی حکام نے بتایا کہ اس حملے میں کم از کم ایک پاکستانی شہری ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے متاثرین میں بنگلہ دیشی اور انڈین شہری بھی شامل ہیں۔ بنگلہ دیشی حکام نے بتایاکہ ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں دو بنگلہ دیشی شہری ہلاک ہوئے جبکہ انڈیا نے تصدیق کی کہ ایک انڈین شہری بھی حملے کی تاب نہ لا کر فوت ہو گیا۔ بی بی سی کے مطابق زخمیوں کو مقامی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا اور بعض پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
حوثی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انھوں نے بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز کے ذریعے کنگ خالد ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے دمام ایئرپورٹ اور سعودی تیل تنصیبات پر بھی حملے کیے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے خبردار کیا کہ مکہ اور مدینہ کے ہوائی اڈے بھی ممکنہ اہداف ہیں۔
بی بی سی اردو نے زخمیوں کی شناخت اور متاثرین کے حالات کے تفصیلی بیانات بھی شائع کیے ہیں جن میں بعض خاندانوں نے بتایا کہ عمرہ کے لیے آنے والے گروپ کے افراد ٹرمینل میں منتقل ہو رہے تھے جب حملہ ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ بنگلہ دیشی حکام متاثرین کی شناخت اور معاوضے کے معاملات پر سعودی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کچھ زخمی افراد کو آئی سی یو میں رکھا گیا ہے۔
حملوں کے بعد بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر مذمت کے بیانات سامنے آئے اور ہوائی اڈے کی سکیورٹی اور بین الاقوامی پروازوں کے معمولات متاثر ہوئے۔ بی بی سی اردو کی فراہم کردہ معلومات اس واقعے کے حقائق پر مبنی ہیں اور سعودی حکام و متعلقہ ممالک کی جانب سے جاری تصدیقات رپورٹ میں درج ہیں۔




