کراچی کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں آگ سے حفاظتی انتظامات ناقص

اسلام آباد کے پی آئی ایم ایس واقعے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ کراچی کے عباسی شہید، جناح اور سول اسپتالوں میں آگ سے حفاظتی نظام ناکافی ہیں—الارم، ہنگامی راستے اور باقاعدہ مشقیں موجود نہیں۔

اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) میں حالیہ آگ کے واقعے کے بعد سامنے آنے والی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ کراچی کے عباسی شہید اسپتال، جناح اسپتال اور سول اسپتال میں آگ سے حفاظتی بنیادی خامیاں موجود ہیں — فائر الارم نظام، مناسب ہنگامی راستے اور تربیت کم ہیں، ہسپتال ذرائع نے بتایا۔

پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے تین بڑے سرکاری ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کے بنیادی انتظامات ناکافی پائے گئے ہیں۔ یہ خامیاں خصوصاً اس وقت سامنے آئیں جب اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) میں پیش آنے والے واقعے نے ملک گیر تشویش پیدا کر دی۔

عباسی شہید اسپتال کے ذرائع نے کہا کہ وہاں صرف 13 آگ بجھانے کے سلنڈر دستیاب ہیں اور عملے کو باقاعدہ آگ بجھانے کی مشقیں نہیں کرائی جاتیں۔ ذرائع نے مزید کہا کہ اسپتال میں آگ کا الارم نظام نصب نہیں، اور ہنگامی خروجی راستہ بھی مخصوص نہیں کیا گیا۔ عباسی شہید کے ایمرجنسی شعبے میں روزانہ سینکڑوں مریض آتے ہیں جبکہ بیرونی مریضوں کے شعبے میں روزانہ 1,000 سے زائد افراد رجسٹر ہوتے ہیں۔ اسپتال کے دو جنریٹر ہیں جن میں سے ایک بیک اپ کے لیے مخصوص ہے۔

عباسی شہید اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے جیو نیوز کو بتایا کہ ہنگامی صورتحال کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے اضافی آلات اور تربیت کی فوری ضرورت کا اعتراف بھی کیا۔

جناح اسپتال کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر وارڈ میں آگ بجھانے کے سلنڈر تو موجود ہیں مگر بہت سے سلنڈر غیر فعّال ہیں۔ اس اسپتال میں آخری باقاعدہ آگ بجھانے کی مشق 2017 میں رکھی گئی تھی اور یہاں بھی آگ کا الارم نظام نصب نہیں ہے۔ جناح اسپتال کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ ایک منظم فائر فائٹنگ ٹیم تشکیل دینے کی ضرورت ہے اور ہر وارڈ میں صرف ایک سلنڈر ہے، مزید تربیت کے لیے سندھ حکومت سے رابطہ کیا جائے گا۔

سول اسپتال میں مختلف وارڈز میں کل 180 آگ بجھانے کے سلنڈر موجود ہیں، مگر ہسپتال ذرائع کے مطابق مجموعی حفاظتی انتظامات اعلٰی معیار کے مطابق نہیں ہیں۔

ماخذوں کے ان انکشافات نے کراچی کے سرکاری ہسپتالوں کی ہنگامی تیاریوں کے بارے میں نئی تشویشیں پیدا کر دی ہیں اور ماہرین کہتے ہیں کہ فوری اصلاحات، فعال الارم نظام، باقاعدہ مشقیں اور مناسب ہنگامی راستوں کی نشاندہی ضروری ہے تاکہ مریضوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515